غلبہء حق

by Other Authors

Page 98 of 304

غلبہء حق — Page 98

ہے اور پچھلے تمام اولیاء اللہ میں سے کسی کو نبی کہلانے کا سنتی قرار نہیں دیا۔حالانکہ ازالہ اوہام وغیرہ کے زمانہ کی تحریروں میں حضور محدث کو من وجہ بی قرار دے چکے تھے اور اس کے لیے مجازی اور جزوی طور پر نبی کا اطلاق جائز قرار دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھی نبی بمعنی محدث قرار دیتے تھے اور براہین احمدیہ جلدم ۴۲۵ پر لکھ چکے تھے :- " امت محمدیہ میں محدثیت کا منصب اس قدر بکثرت ثابت ہوتا ہے جس سے انکار کرنا بڑے غافل اور بے خبر کا کام ہے"۔پھر ایک وقت ان لوگوں کو چین پر آپ کے متعلق نبی کا لفظ شاق گزرے یہ بھی تلقین فرما چکے تھے کہ وہ نبی کی جگہ محدث کا لفظ سمجھ لیں۔لیکن انتقیقة الوحی وہ میں آپ یہ فرماتے ہیں :- غرض اس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور میں قدر مجھے سے پہلے اولیا ء ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے اُن کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا۔اس عبارت میں اگر نبی کی بجائے محدث کا لفظ رکھا جائے تو یہ ساری عبارت بے معنی ہو جاتی ہے۔کیونکہ اس کا مفہوم اس صورت میں یہ بن جاتا ہے کہ تمام امت محمدیہ میں سے اس وقت تک محدث کا نام پانے کے لیے آپ ہی ایک مخصوص فرد ہیں آپ سے پہلے گزرے ہوئے اولیاء اللہ میں سے کوئی شخص محدت کا نام پانے کا مستحق نہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس تحریر کے