غلبہء حق

by Other Authors

Page 97 of 304

غلبہء حق — Page 97

نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی " ان سب عبارتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام منشاء کے بعد کی تحریرات کے زمانہ میں خدا کے حکم اور اصطلاح میں اور نبیوں کی متفق علیہ تعریف اور اسلامی اصطلاح میں اور قرآن کریم کے بیان کردہ معنوں میں اپنے آپ کو نبی قرار دیتے ہیں اور نبی کے لیے اُمتی نہ ہونے کی شرط کو ضروری قرار نہیں دیتے۔بلکہ ان سب عبارتوں میں اس شرط کو حذف کر دیا ہے۔اور حقیقۃ الوحی کی اس مندرجہ بالا عبارت میں امت محمدیہ میں پہلے گزرے ہوئے اولیاء اللہ میں سے کسی کو نبی کا نام پانے کا مستحق قرار نہیں دیا۔کیونکہ کثرتِ وحی اور کثرت امور غصہ جو نبوت کے لیے ضروری شرط ہے وہ ان میں پائی نہیں گئی۔حالانکہ وہ اولیا واللہ محدثین امت ضرور تھے۔مگر آپ اُمت محمدیہ میں سے اس وقت تک اپنے آپ کو ہی ایک فرد مخصوص قرار دیتے ہیں۔جیسے نبی کا نام دیا گیا۔حقیقۃ الوحی ایک بہت بڑی کتاب ہے۔جس میں حضرت اقدس نے اپنی نبوت کو بار با پیش کیا ہے مگر اس میں کسی جگہ بھی آپ نے نبی کی تا دلیل محدث یا جزوی نبی نہیں کی بلکہ اس کے خلاف حقیقۃ الوحی کے مندرجہ بالا اقتباس میں تمام اولیاء امت میں سے نبی کہلانے کا مستحق تیرہ سو سال میں صرف اپنے آپ کو ہی قرار دیا ہے۔پس اس عبارت میں حضرت اقدس نے اپنا مقام تمام محدثین امت سے بالاتر قرار دیا ہے۔کیونکہ حضور نے اپنے آپ کو تو نبی کہلانے کا استحق قرار دیا