غلبہء حق — Page 99
۹۹ زمانہ میں حضرت اقدس اپنا مقام نبوت محمد ثین امت سے بالا تر قرار دے رہے ہیں۔محض محدث ہونے سے ( اس امر کا نہایت واضح ثبوت کہ آپ نے نشاء حضرت مسیح موعود کا انکار سے اپنے آپ کو بی معنی محدث کہنا فی الواقعہ ترک فرما دیا تھا یہ ہے کہ آپ ایک غلطی کا ازالہ میں جو ان کا رسالہ ہے تحریر فرماتے ہیں :۔اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اُس کو پکارا جائے اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہیے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب ہے۔اس تحریر سے ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں حضرت اقدس یہ بیان فرما رہے ہیں کہ آپ کا نام محدث رکھنے سے آپ کا حقیقی مرتبہ اور مقام ظاہر نہیں ہو سکتا بلکہ آپ کو نبی کے نام سے پکارا جانے سے ہی آپ کا حقیقی مقام اور مرتبہ ظاہر ہو سکتا ہے۔پس فاروقی صاحب کا یہ خیال بالکل باطل ہے کہ : حضرت مرزا صاحب نے شروع سے آخر تک ایک ہی عقیده یا دعوی رکھا اور بدقسمتی سے عجوبہ پسند مریڈی نے استعاروں کو اصل سمجھ لیا اور جس طرح حضرت عیسی کو اُن کے پیروں نے ایک نبی کے مقام سے اونچا کر کے خدا کا بیٹا اورخرا بنا لیا اسی طرح مسیح محمدی کے بعض مریدوں نے ایک محدث اور محدد