غلبہء حق — Page 90
9۔فاروقی صاحب نے حضرت اقدس کے اپنی نبوت کو محدثیت مراد لینے سے متعلق شاہ سے پہلے کی کچھ عبارتیں اپنی کتاب میں پیش کی ہیں۔جن میں سے ایک عبارت ازالہ اوہام ص سے یہ نقل کی ہے :- " " ، آنے والے مسیح کو اُمتی کر کے پکارا ہے جیسا کہ حدیث اما حکم منکم سے ظاہر ہے اور حدیث علماء امتی کا نبیاء بنی اسراءیل میں اشارہ میں صبح کے آنے کی خبر دی ہے چنانچہ اس کے مطابق آنے والا سیح محدث ہونے کی وجہ سے مجازاً اپنی بھی ہے ؟" ر فتح حق صداود) اور دوسرا حوالہ ازالہ اوہام مشک سے پیش کیا ہے جو یہ ہے :- اس جگہ بڑے شبہات یہ پیش آتے ہیں کہ جس حالت میں حالت میں مسیح ابن مریم اپنے نزول کے وقت کامل طور پر اُمتی ہوگا۔تو پھر با وجود امتی ہونے کے کسی طرح رسول نہیں ہو سکتا اور نیز خاتم النبیین ہونا ہمار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی دوسرے نبی کے آئے سے مانع ہے۔ہاں ایسا نبی جو مشکواۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتا ہے اور نبوت تامہ نہیں رکھتا ، جس کو دوسرے لفظوں میں محدث بھی کہتے ہیں وہ اس تحدید سے باہر ہے کیونکہ وہ بباعث اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کے جناب خاتم المرسلین کے وجود میں داخل ہے جیسے جزو کل میں ہوتی ہے! رفتم خوشت اوہ)