غلبہء حق — Page 89
باب سوم ضرت مسیح موعود علیه اسلام پراپنی نو سے تعلق تدریجی است حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تمام تحریرات کو مد نظر رکھنے سے یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ آپ پر اپنی نبوت اور اپنی شان کے متعلق یکدم پورا انکشاف نہیں ہوا بلکہ تدریجاً انکشاف ہوا ہے اشارہ سے پہلے لٹریچر میں آپ خدا تعالے کے اُن الہامات کی جن میں آپ کو نبی اور رسول قرا دیا گیا تھا یہ تشریح فرماتے تھے کہ اس سے مراد محد ثیت - جزوی نبوت اور نبوت ناقصہ ہے۔یعنی اس زمانہ میں آپ اپنے آپ کو مروجہ تعریف نبوت کی رو سے جس میں احکام جدیدہ لانا یا کسی نبی کا اتنی نہ ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا ، نبی قرار نہیں دیتے تھے بلکہ اپنے لیے الہامات میں نبی رسول کے الفاظ کی یہ تا دیل فرماتے تھے کہ آپ ایک محقرت ہیں اور خدا تعالے کی طرف سے مامور ہیں اور محدثیت نبوت سے شدید مشابہت رکھتی ہے اس لیے محدث ہونے کی وجہ سے آپ کو نبی کا نام دیا گیا ہے۔لیکن نشہ اور اس کے بعد کی تحریرید میں آپ نے اپنی نبوت کی یہ تا دیل خدا تعالے کے صریح الہامات کی روشنی میں ترک فرما دی کہ آپ محض محدث ہیں۔اور اپنے تئیں صریح طور پر نبی کا خطاب یافتہ قرار دیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے بنی اور ایک پہلو سے امنتی۔