غلبہء حق — Page 79
69 اس حدیث کی تشریح میں سید موصوت تحریر فرماتے ہیں :- " فهولاء الانبياء الاولياء يُرِيدُ بذالك نبوة القرب والاعلام والحكم الالهى لا نبوة التشريع لان نبوة التشريع القطعت بمحمد صلى الله عليه وسلم۔الانسان الكامل جلد ۲۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ بھائی جو آپ کے بعد آئیں گے انبیاء اولیاء میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس سے یہ ہے کہ انہیں وہ نبوت حاصل ہو گئی جو درجہ قریب ہے جس میں ان پر ا مور غیبیہ ظاہر کیے جائیں گے اور انھیں خدائی حکمتیں بتائی جائیں گی۔پس به بزرگ انبیاء الاولیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کی ہے سے آپ کے روحانی فرزند بھی ہیں اور ثبوت القرب پانے کی وجہ سے آپ کے علاماتی بھائی بھی ہیں کیونکہ ان کا دین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اصول فروع میں ایک رہتی ہے اور مائیں الگ الگ ہیں یعنی الگ الگ زمانوں میں ظاہر ہونے والے ہیں۔میسج موعود کی نبوت سے متعلق دوسری حدیث | فاروقی صاحب لکھتے ہیں:۔ایک اور حدیث نواس بن سمعان کی وہ مشہر رحدیث ہے جس میں عیسی ابن مریم نبی اللہ کا ذکر دمشق کے مشرقی منار پر ہے۔" (فتح حق ص ) (نوٹ : " منارہ پر غلط ترجمہ ہے صحیح ترجمہ یہ ہے کہ "منارۃ البیضاء کے پاس نازل ہوگا " محمد نذیر)