غلبہء حق — Page 80
حدیث کا یہ مضمون درج کر کے فاروقی صاحب لکھتے ہیں :۔ظاہر ہے اس پیشگوئی کے اندر استعارہ اور مجاز غالب ہے اس حدیث میں ابن مریم کا لفظ رہے ناقل) سوائمہ سلف نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ حضرت عیسی نبی ہونے کی حالت میں دنیا میں آئیں گے بلکہ برعایت ختم نبوت یہی معنی ہیں کہ وہ نبی ہو کر نہیں آئیں گے ر فتح حق صاد ۱۳) فاروقی صاحب کو اپنی کتاب کے صا پر یہ تو مسلم ہے کہ اس حدیث میں امت محمدیہ کے موعود عیسی کا ہی ذکر ہے جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں چار دفعہ نبی اللہ کیا ہے۔چونکہ اس سے مسیح موعود کی نبوت صاف ثابت ہو جاتی تھی اس لیے حقیقت پر پردہ ڈالنے کی خاطر فاروقی صاحب نے ائمہ سلف کی طرف صریح غلط بیانی سے یہ بات منسوب کر دی ہے کہ وہ امت محمدیہ میں آنے والے عیسی کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ نبی ہونے کی حالت میں دنیا میں نہیں آئینگے۔حالا نکہ آئمہ سلف نے بنی تسلیم کیا ہے کہ نازل ہونے والی عیلی ضرور بنی اللہ ہوگا اور وہ مسلوب النبوۃ ہو کر نہیں آئے گا۔کیونکہ کسی بنی سے نبوت کا سلب کیا جانا آئمہ سلف کو مسلم نہیں۔چنانچہ نواب صدیق حسن خاں صاحب بھوپالوی اپنی کتاب بیج الکرامہ کے اس میں علمائے سلف کے قول کی بنا پر لکھتے ہیں :۔من قال بسلب نبوته فقد كَفَرَ حقا كما ذكره >> السيوطى" کہ جو شخص یہ کہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت نازل ہونے پر سلب ہو جائے گی وہ پکا کا فر ہے جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی نے یہ بات بیان