غلبہء حق

by Other Authors

Page 78 of 304

غلبہء حق — Page 78

حضور کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ امت محمدیہ میں تیرہ سو سال میں کسی عود تک کوئی نبی نہیں ہوا۔اور احادیث نبویہ مسیح موعود کو ہی نبی قرار دیتی ہیں اس سے پہلے کے کسی امتی بزرگ کو نبی قرار نہیں دیتیں۔یہ مضمون حدیث نبوی انه لیس بینی وبینہ نبی سے بھی ماخوذ ہے۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیح موعود کے درمیان کوئی نبی نہیں۔اور ان دوسری احادیث نبویہ کے بھی مطابق ہے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد مسیح موعود کو نبی کہا ہے۔نہ کسی اور کو۔پس زیر بحث حدیث نبوی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب انبیاء کا ایک ہی دین یعنی دین توحید قرار دیکر اس دین کو انکار وحانی باپ قرار دیا ہے اور ان کے زمانوں کو جو الگ الگ میں مجازی مائیں قرار دیکر انہیں باہم علاقی بھائی قرار دیا ہے اور مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روحانی فرزند ظاہر کر کے نبی قرار دیگر انبیاء کے زمرہ میں شمار کیا ہے۔اس روحانی فرزند گو انبیاء کے زمرہ کا فرد قرار دینے کی وجہ سے اگر کوئی شخص اس موعود عیسی کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روحانی فرزندی کی نسبت کے علاوہ علاقی بھائی کی نیت بھی قرار د سے تو اس میں بھی کوئی قباحت نہیں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد بعض آنے والے امتی بزرگوں کو اپنا بھائی بھی قرار دیا ہے چنا نچہ عارف ربانی سید عبدالکریم جیلانی علیہ الرحمہ اپنی کتاب الانسان الکامل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث درج فرماتے ہیں:۔وا شوقاه الى اخواني الذين يأتون بعدى یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے اپنے ان تمام بھائیوں کا بڑا اشتیاق ہے جو میرے بعد آئیں گے۔