غلبہء حق — Page 38
سے نا واقف ہو۔“ ربیان القرآن تفسير سورة الفاتحه گویا اب دعا کے ذریعہ مقام نبوت ملنے کو مولوی اصول دین سے نا واقعی صاحب اپنے پہلے بیان کے خلاف غلطی اور ٹھو کر اور اصول دین سے نا واقعی قرار دے رہے ہیں۔حالانکہ اس سے پہلے وہ اس دعا کے نتیجہ کے متعلق یہ کہہ چکے تھے کہ اس ردعا۔ناقل ) کی قبولیت بھی یقینی ہے اور مخالف خواہ کوئی بھی معنی کرے ہم تو اس بات پر قائم ہیں کہ خدا نبی پیدا کر سکتا ہے۔صدیق، شہید اور صالح کا مرتبہ عطا کر سکتا ہے، مگر چاہیئے مانگنے والا ر تقریر مندرجہ الحکم ۸ در جولائی منشائه) افسوس ہے کہ وہ اپنے اس عقیدہ پر قادیان میں تو قائم تھے مگرلاہور کے زمانہ میں قائم نہیں رہے اور ہم لوگ خدا کے فضل سے اس عقیدہ پر اب بھی اسی طرح قائم ہیں جیسے کہ مولوی محمد علی صاحب قادیان کے زمانے میں اس پر قائم تھے۔مولوی محمد علی صاحب کا پہلا مذہب کہ خدا نبی پیدا کر سکتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذہب کے عین مطابق تھا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود آیت اهدنا الصراط المستقیم کی تفسیر میں لکھا ہے :- و" پس ضروری ہوا کہ تمھیں یقین اور محبت کے مرتبہ تک پہنچانے کے لیے خدا کے انبیاء وقتاً بعد وقت آتے رہیں جن سے تم وہ نعمتیں پاؤ دلیکچر سیالکوٹ م) اور ایک غلطی کا ازالہ میں حضور تقریر فرماتے ہیں:۔