غلبہء حق — Page 39
۳۹ یه عمر دریا د رکھو کہ اس امت کے لیے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور مشکویاں ہیں، جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔لیکن قرآن شریف بجز بنبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت لا يظهر على غيبه احدا الا من ارتضى من رسول سے ظاہر ہے۔پر مصفیٰ غیب پانے کے لیے نبی ہونا ضروری ہوا۔اور آیت انعمت علیہم گواہی دیتی ہے کہ اس مصفے غیب سے یہ امت محروم نہیں۔اور مصفے اغیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت چاہتا ہے۔اور وہ طریق براہ راست بند ہے۔۔اس لیے ماننا پڑتا ہے کہ اس مومہیبت کے لیے محض برو ظلیت اور فنا فی الرسول کا دروازہ کھلا ہے کہ د ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ مت ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس بیان کے مطابق انبیاء میں امر مشترک جن کی رو سے ڈ سب نبی کہلاتے رہے صرف اظہار علی الغیب سے بینی خدا کی طرف سے اہم امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع دیا جانا۔آپ نے امت کو یہ انعام دیے جانے کے وعدہ کا ذکر فرمایا ہے اور اس کے پانے والے کے لیے نبی ہونا ضروری قرار دیا ہے البتہ یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ مومبت ثبوت اب کسی براہِ راست نہیں مل سکتی ، بلکہ اس مہیبت کے پانے کے لیے صرف بروز ظلمیت اور فنا فی الرسول