غلبہء حق — Page 37
علی کو ضرور ملی ہے۔(النبوة في الاسلام مثلا ) یہ عقیدہ مولوی محمد علی صاحب نے قادیان سے لاہور آجانے کے بعد اختیار کیا ہے۔کیونکہ قادیان میں ریویو آف ریلیجنز کی ایڈیٹری کے زمانہ میں تو انہوں نے خواجہ غلام الثقلین کے مقابلہ میں حضرت اقدس کو مدعی نبوت ہی قرار دیا تھا اور شہید ہونے والے خلفاء ثلاثہ کے مدعی نبوت ہونے سے جن میں حضرت علی بھی داخل ہیں صاف انکار کر دیا تھا۔اسی طرح اپنا عقیدہ بدل لینے پر مولوی صاحب موصوف نے آیت اهدنا الصراط المستقيم صراط الذین انعمت عليهم اور آیت الذین انعم الله عليهم من النبيين والصديقين دالشهداء والصالحین کی تفسیر اپنے پہلے بیان کے خلاف لاہور کے زمانہ میں اپنی تفسیر بیان القرآن میں یہ لکھدی ہے :- یہاں بنی کا لفظ آجانے سے بعض لوگوں کو یہ ٹھوکر لگی ہے کہ خود مقام نبوت بھی اس دعا کے ذریعہ مل سکتا ہے اگر اهدنا الصراط المستقیم کو حصول نبوت کی دعا مانا جائے تو ماننا پڑے گا تیرہ سو سال میں کسی مسلمان کی دعا قبول نہ ہوئی۔پھر لکھتے ہیں:۔ربیان القرآن منا پس مقام نبوت کے لیے دعا کرنا ایک بے معنی فقرہ ہے اور اس شخص کے منہ سے نکل سکتا ہے جو اصول دین