غلبہء حق — Page 243
خلیفہ اسح الاول ریعنی اللہ عنہ کی خلافت کے وقت فیصلہ یہی ہوا تھا کہ نئے اور پرانے سارے احمدی آپ کی بیعت کریں۔پس آپ کی بہت سارے احمدیوں کے لیے ضرور می قرار دی گئی تھی۔اور اس پر قوم کا اجتماع ہو گیا تھا۔چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈرسیکرٹری انجمن احمدیہ نے جون نشاء کے اخبارید میں اطلاع از جانب صدرانجمن " کے عنوان کے تحت پہلے حضرت مسیح موعود کی نعش کو لاہور سے قادیان لائے جانے کا ذکر کرنے کے بعد یہ اعلان کرتے ہیں:۔حضور عليه الصلواۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھنا جانے سے پہلے آپ کے وصایا مندرجہ الوصیت کے مطابق حسب مشور معتمدین صدر انجمن احمد به موجود قادیان و اقرباء حضرت مسیح موعود با جازت حضرت ام المومنين كل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد اس وقت بارہ سو تھی والا مناقب حاجی الحرمین شریفین جناب حکیم نورالدین صاحب سلمہ کو آپ کے جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی معتمدین میں سے ذیل کے اصحاب موجود تھے :- مولانا حضرت سید محمد احسن صاحب ، صاحبزاده بشیر الدین محمود احمد صاحب ، جناب نواب محمد علی خاں صاحب شیخ رحمت اللہ صاحب مولوی محمد علی صاحب ڈاکٹر مرزا لعقوب بیگ صاحب۔ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب خلیفہ رشید الدین صاحب و خاکسارد خواجه