غلبہء حق

by Other Authors

Page 242 of 304

غلبہء حق — Page 242

اشارہ خلافت کی طرف ہی تھا تبھی تو اس حکم کے ماتحت حضرت موی نانور الدین صاحب رضی اللہ عنہ وا جب الاطاعت خلیفہ ایسے تسلیم کیے گئے ورنہ مل کر کام تو انجمن بھی کر سکتی تھی۔لیکن صدر انجمن احمدیہ اور جماعت احمدیہ نے بقول فاروقی صاحب اس فقرہ سے اجتھادا انجمن کی جانشینی نہیں سمجھی بلکہ خلیفہ کی جانشینی سمجھی ہے۔پس یہ لکھ کر فاروقی صاحب نے اپنے خلاف خود صحبت قائم کر دی ہے کہ جماعت احمدیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر نظام خلافت جاری ہوا اور یہ کہ خلیفہ مسیح الاول رضا کی خلافت پر حق خلافت تھی اور۔رسالہ "الوصیت کے مطابق تھی۔اور انجمن نے ان کی خلافت کو قبول کر لیا تھا۔اور ایک خلیفہ کا جماعت میں مقرر ہونا منشاء الوصیت کے خلاف نہ تھا۔فاروقی صاحب کی | فاروقی صاحب آگے لکھتے ہیں:۔ایک غلط بیانی و اسلامی نقطۂ نگاہ سے حضرت مسیح موعود مجد دصدی چہار دہم حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ تھے۔دیگر منی کی حیثیت میں بموجب الوصیت قدرت اولی ہو کر۔ناقل ) اگر چہ مولوی نورالدین صاب خلیفہ ایسی کہلائے اور اکثر احمدیوں نے انہیں بلکہ سارے احمدیوں نے سوائے ایک کے۔ناقل ) اُن کی بیعت بھی کی رجن میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب بھی شامل تھے۔ناقل ) مگر مجنوں نے حضرت مرزا صاحب کی بیعت کی ہوئی تھی ان کے لیے دوبارہ صحت کرنا ضروری نہ تھا۔(فتح حق ص۳۵) یہ آخری فقرہ جس پر ہم نے خط کھینچ دیا ہے صربحاً غلط ہے کیونکہ حضرت