غلبہء حق — Page 143
۱۴۳ کے انسان قرار دیا ہے یعنی لکھا ہے کہ:۔ایسا شخص جو آپ کو کا فریا کا ذب یا دقبال کہتا ہے وہ تو ضرور فتو نے حدیث کے ماتحت خود کفر کے نیچے آتا ہے لیکن ایسا کہنے والوں یا سمجھنے والوں کے علاو جو لوگ ایسے ہیں جنھوں نے دعوئی کو قبول نہیں کیا یا ابھی سبعیت نہیں کی وہ محض انکا یہ دعویٰ سے کافر نہیں درد تکفیر اہل قبا ص۳) ہو جاتے۔اب دیکھئے مولوی محمد علی صاحب حضرت اقدس کو کا فریا کا ذب یاد قبال کہنے اور سمجھنے والوں کو تو کا فر قرار دیتے ہیں۔لیکن آپ کے دعوے کو نہ ماننے والوں کو کافر قرار نہیں دیتے۔مگر آپ لوگوں کا یہ عقیدہ درست نہیں ہے کیونکہ حضرت اقدس ایسے ہی عقیدہ پر تعجب کا اظہار فرماتے ہوئے تحریر فرما رہے ہیں کہ : عجیب بات ہے کہ آپ کا فر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں “ (حقیقة الوحی ۱۶۳) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کی جماعت کا یہ عقیدہ کہ یہ دونوں قسم کے شخص ایک ہی قسم میں داخل ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک قابل تعجب نہیں بلکہ آپ کی تحریر کے مطابق ہے۔لیکن لاہوری فریق کا عقیدہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک صریح طور پر قابل تعجب ہے۔حضرت مسیح موعود نے آگے چل کر حقیقۃ الوحی ص پر کافر کا لفظ مومن