غلبہء حق

by Other Authors

Page 137 of 304

غلبہء حق — Page 137

اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا ؟ الوصیت ملا مطبوعه نظارت بہشتی مقبره ) اس عبارت میں مکالمہ مخاطبہ الہیہ کاملہ کو ہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم قرار دیا گیا ہے پس مکالمہ مخاطبہ المیہ کا مل ہی جب نبوت ہے ہیں پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔یعنی جس کی وجہ سے تمام انبیاء کرام علیہم السلام بلا استفنے اپنی کہلاتے رہے تو یہ مکالمہ مخاطبہ الہیہ کا ملہ ایک معنی میں وحی نبوت ہی ہوا چونکہ شریعیت جدیدہ نبی ہی کو ملتی ہے۔غیر نبی کو نہیں ملتی۔اس لیے جب کسی نبی پر احکام شریعت جدیدہ نازل ہوں۔تو یہ احکام شریعت بھی ایک خاص اصطلاح میں دحی نبوت ہی کہلاتے ہیں۔مگر نبی کے لیے شریعیت کا لانا ضروری نہیں کیونکہ بعض نبی شریعیت جدیدہ لاتے رہے ہیں اور بعض کی وحی صرفف امور غیبیہ پر ہی مشتمل ہوتی رہی ہے۔اور ایسے انبیاء صرف پہلی شریعت کی تجدید اور ترویج اور خدا تعالیٰ کی مہنتی پر اپنے نشانوں سے زندہ ایمان پیدا کرنے کے لیے آتے رہے ہیں۔اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے إِنَّا انزلنا التوراة فيها هُدى وَلُورُ يَحْكُم بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُرُ اللَّذِينَ هَادُوا رسورہ مائدہ (ع) کہ ہم نے تورات نازل کی ریعنی موسیٰ کی کتاب شریعت جس میں عدایت اور نور کتھا اور اس کے ذریعہ سے کئی بنی ہو خدا تعالیٰ کے فرمانبردار تھے (یعنی خود بھی تو رات پر عامل تھے ، بیویوں کے لیے فیصلہ دیا کرتے تھے۔پس یہ تمام انبیاء غیر تشریعی نبی تھے اور مکالمہ مخاطبہ الیه مشتمل بر امور عنبیہ کی نعمت کامل طور پر پانے کی وجہ سے نبی کہلاتے تھے ان کی وحی نبوت ایسے مکالمہ مخاطبہ اللہ کا منہ پر ہی مشتمل ہوتی تھی۔اس قسم کی وحی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کو مل سکتی ہے۔اور ایسی وحی کے