غلبہء حق

by Other Authors

Page 136 of 304

غلبہء حق — Page 136

چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وحی میں آپ کو خدا تعالیٰ نے نبی اور رسول بھی کہا ہے اس لیے ان معنی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وحی بھی وٹی نبوت ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ آپ مستقل نبی اور رسول نہیں یعنی آپ نے مقام نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بغیر براہ راست حاصل نہیں کیا۔بلکہ آپ نے مقام نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور افاضہ روحانیہ کے واسطہ سے حاصل کیا ہے اور اس طرح آپ ایک پہلو سے نبی ہیں اور ایک پہلو سے امتی بھی گویا بالفاظ دیگر طلی بنی ہیں۔ما سوا اس کے اتنی پر اگر کیفیت اور کمیت کے رُو سے کامل درجہ کی وحی نازل ہو تو حضرت اقدس کے بیان مندرجہ الوصیت کے مطابق ایسی دھی باتفاق انبیاء نبوت ہی ہوتی ہے۔چنانچہ آپ اپنے رسالہ الوصیت میں تحریر فرماتے ہیں:۔جبکہ وہ مکالمہ اور مخاطبہ اپنی کیفیت اور کریت کی رو سے کمال در جز تک پہنچ جائے ،اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دو مرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔ممکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لیے فرمایا گیا گشتیم خَيْرَ اُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اور جن کے لیے یہ دعا سکھائی گئی کہ اِهْدِنَا الصِّراط المُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ الْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ان کے تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے ،