غلبہء حق — Page 197
194 بغض و حسد کا مظاہرہ ہے۔اس سے بڑھ کر فاروقی صاحب حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے کے متعلق لکھتے ہیں: یہ بھی خدائی عذاب کا ایک نشان تھا۔فتح حق صدا قار : قی صاحب کی یہ بات ان کے انتہائی تعقیب بنبض اور سنگدلی کی علامت ہے۔کیونکہ دین کی راہ میں کسی مسلمان کا زخمی ہونا تو ایک قابل عزت قربانی ہے اور الیسا شخص قابل صد احترام ہوتا ہے۔کیا فاروقی صاحب کو علم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنگوں میں زخمی ہو گئے تھے۔کیا فاروقی صاحب ان کے زخموں کو عذاب الہی کا نشان سمجھتے ہیں۔ایسا خیال تو سراسر جہالت اور گستاخی ہے۔پھر کیا حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کرنے کی وجہ سنگدلی کے ساتھ کاہل میں سنگسار کیا جانا فاروقی صاحب کے نزدیک اُن پر خدائی عذاب کا نشان تھا۔اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر فاروقی صاحب کا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے دین کی راہ میں زخمی ہونے کو عذاب الہی کا نشان قرار دینا محض سنگدلی اور بغض و حسد کا مظاہرہ ہے۔کیونکہ مومنوں کو دین کی راہ میں جو زخم پہنچتے ہیں اور انھیں خدا کی راہ میں جو مصائب اور صدمات اُٹھانے پڑتے ہیں وہ خدائی عذاب کا نشان نہیں ہوتے بلکہ یہ امور توان کے خدا تعالیٰ کے حضور میں قرب کے بڑھانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔زخمی ہونے سے تو سيدنا و مولانا افضل الانبياء والمرسلین حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم بھی محفوظ نہیں رہے۔چنانچہ جنگ احد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خداہ امی دابی کی پیشیائی مبارک پر ایسا زخم لگا کہ حضور بهروش ہو گئے اور اس پر دشمن نے مشہور کردیا کہ آپ مارے گئے۔پھر حضرت عمر خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ پر سجد میں نماز کے وقت حملہ ہوا اور آپ اس سے شہید ہو گئے۔اسی طرح حضرت خلیفہ المسیح