غلبہء حق — Page 196
JAY بے چینی کی تکلیف تھی ، فالج اور جنون ہرگز نہ تھا۔فالج کے مریض کے اعصا تو ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔اسی لیے اس کا دوسرا نام استرخاء بھی ہے لیکن طبی رپورٹ ہو فاروقی صاحب نے نقل کی ہے بتاتی ہے کہ آپ کی ٹانگوں میں زیادہ عرصہ بیٹے رہنے کی وجہ سے کھچاؤ اور اکڑاؤ ہے جو استرخاء اور بے حسی کی ضد ہے۔فالج کی خاص علامت اعصاب کا استرخاء اور بے حسی ہوتی ہے جس سے فیمین کی ٹانگیں بے حس و حرکت ہو جاتی ہیں لیکن اکٹڑا ؤ اور کھچاؤ تو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کے اعصاب بالکل صحیح تھے۔میڈیکل رپورٹ کی اُردو عبارت کا جو ترجمہ انگریزی میں کیا گیا ہے وہ درست نہیں۔اُردور پورٹ میں کوئی لفظ ایسا نہیں جس کا ترجمہ NUMBESS ہو سکے جس کے معنی بے حسی ہوتے ہیں جو فالج کی علامت ہوتی ہے۔اسی طرح جنون کا الزام بھی سراسر باطل ہے البتہ لمبا عرصہ بیمار رہنے کی وجہ سے آپ کا صرف جذبات پر کنٹرول ضرور کم ہو گیا تھا۔اس لیے مقدس مہنیوں یا مقامات کے ذکر پر آپ پر رقت طاری ہو جاتی تھی اور یہ لمبی بیماری کی وجہ سے کمزری اور خدمت اسلام کے لیے شدت جذبات کا اثر تھا جو آپ کے دل میں موجزن تھے کسی تکلیف، صدمہ یا بیماری کی حالت میں جذبات میں رقت کا پیدا ہو جانا ایک طبعی امر ہے جس سے انبیاء بھی مستثنے نہیں حضرت یعقوب علیہ السلام کے ذکر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب یوسف علیہ السلام کا ذکر ان کے سامنے آیا ، ابيضيت عيناه من الحزن تو آپ کی آنکھیں غم سے ڈبڈبا آئیں اور اپنے صاحبزادہ ابراہیم کی وفات پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بے ساختہ رو پڑے تھے۔پس وفور جذبات سے رو پڑنے کو جنون قرار دنیا محض شفا دت قلبی اور