فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 65
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:۔65 " کفار کے تتبع پر تو تصویر ہی جائز نہیں۔ہاں نفس تصویر میں حرمت نہیں بلکہ اس کی حرمت اضافی ہے۔اگر نفس تصویر مفسد نماز ہو تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا پھر روپیہ پیسہ نماز کے وقت پاس رکھنا مفسد نہیں ہوسکتا ؟ اس کا جواب اگر یہ دو کہ روپے پیسے کا رکھنا اضطراری ہے تو میں کہوں گا کہ کیا اگر اضطرار سے پاخانہ آ جاوے تو وہ مفسد نماز نہ ہوگا اور پھر وضو کرنا نہ پڑے گا؟ اصل بات یہ ہے کہ تصویر کے متعلق یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا اس سے کوئی دینی خدمت مقصود ہے یا نہیں ؟ اگر یونہی بے فائدہ تصویر رکھی ہوئی ہے اس سے کوئی دینی فائدہ مقصود نہیں تو یہ لغو ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُون لغو سے اعراض کرنا مومن کی شان ہے اس لئے اس سے بچنا چاہئے۔لیکن ہاں اگر کوئی دینی خدمت اس ذریعہ سے بھی ہو سکتی ہو تو منع نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ علوم کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔مثلاً ہم نے ایک موقع پر عیسائیوں کے مثلث خدا کی تصویر دی ہے جس میں روح القدس بشکل کبوتر دکھایا گیا ہے اور باپ اور بیٹے کی بھی جدا جدا تصویر دی ہے۔اس سے ہماری یہ غرض تھی کہ تا تثلیث کی تردید کر کے دکھائیں کہ اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے وہی حقیقی خدا ہے جوحی و قیوم ، ازلی و ابدی غیر متغیر ہے اور تجسم سے پاک ہے۔اس طرح پر اگر خدمت اسلام کیلئے کوئی تصویر ہو تو شرع کلام نہیں کرتی ہے کیونکہ جو امور خادم شریعت ہیں ان پر اعتراض نہیں ہے۔کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کے پاس کل نبیوں کی تصویریں تھیں۔قیصر روم کے پاس جب صحابہ گئے تھے تو انہوں نے آنحضرت عیب اللہ کی تصویر اس کے پاس دیکھی تھی تو یاد رکھنا چاہئے کہ نفس تصویر کی حرمت نہیں بلکہ اس کی حرمت اضافی ہے۔جو لوگ لغوطور پر تصویر میں رکھتے اور بناتے ہیں وہ حرام ہیں۔شریعت ایک پہلو سے حرام کرتی ہے اور ایک جائز طریق پر اسے حلال ٹھہراتی ہے۔روزہ ہی کو دیکھو رمضان میں حلال ہے لیکن اگر عید کے دن روزہ رکھے تو حرام ہے۔گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی حرمت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک بالنفس حرام ہوتی ہے۔ایک بالنسبت۔جیسے خنزیر بالکل حرام ہے۔خواہ وہ جنگل کا ہو یا کہیں کا سفید ہو یا سیاہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ہر ایک قسم کا حرام ہے۔یہ حرام بالنفس