فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 63
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 63 آپ سے التزام ثابت نہیں ہے اگر التزام ہوتا اور پھر کوئی ترک کرتا تو یہ معصیت ہوتی۔تقاضاء وقت پر آپ نے خارج نماز میں بھی دعا کر لی۔اور ہمارا تو یہ ایمان ہے کہ آپ کا سارا ہی وقت دعاؤں میں گزرتا تھا لیکن نماز خاص خزینہ دعاؤں کا ہے جو مومن کو دیا گیا ہے اس لئے اس کا فرض ہے کہ جب تک اس کو درست نہ کر لے اور طرف توجہ نہ کرے کیونکہ جب نفل سے فرض جاتا رہے تو فرض کو مقدم کرنا چاہئیے۔اگر کوئی شخص ذوق اور حضور قلب کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو پھر خارج نماز میں بے شک دعائیں کرے ہم منع نہیں کرتے ہم تقدیم نماز کی چاہتے ہیں اور یہی ہماری غرض ہے مگر لوگ آجکل نماز کی قدر نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے بہت بعد ہو گیا۔مومن کیلئے نماز معراج ہے اور وہ اس سے ہی اطمینان قلب پاتا ہے۔" فرمایا:۔( الحکم نمبر 38 جلد 6 مؤرخہ 24 اکتوبر 1902ء صفحه 12,11) دعا کیلئے رقت والے الفاظ تلاش کرنے چاہئیں یہ مناسب نہیں کہ انسان مسنون دعاؤں کے ایسا پیچھے پڑے کہ ان کو جنتر منتر کی طرح پڑھتا رہے اور حقیقت کو نہ پہنچانے۔اتباع سنت ضروری۔مگر تلاش رفت بھی اتباع سنت ہے۔اپنی زبان میں جس کو تم خوب سمجھتے ہو دعا کرو تا کہ دعا میں جوش پیدا ہو۔الفاظ پرست مخذول ہوتا ہے حقیقت پرست بننا چاہیئے۔مسنون دعاؤں کو بھی برکت کیلئے پڑھنا چاہئے مگر حقیقت کو پاؤ۔ہاں جس کو زبان عربی سے موافقت اور فہم ہو وہ عربی میں پڑھے۔" الحکم نمبر 33 جلد 5 مؤرخہ 10 رستمبر 1901 ، صفحہ 9) (۷۸) رکوع و سجود میں قرآنی دعانہ پڑھو مولوی عبدالقادر صاحب لو دھانوی نے سوال کیا کہ رکوع اور سجود میں قرآنی آیت یا دعا کا پڑھنا کیسا ہے؟ فرمایا:۔سجدہ اور رکوع فروتنی کا وقت ہے اور خدا کا کلام عظمت چاہتا ہے۔ماسوائے اس کے حدیثوں سے کہیں ثابت نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ نے بھی رکوع یا سجود میں کوئی قرآنی دعا پڑھی ہو۔" عليه وسلم الحکم نمبر 15 جلد 7 مؤرخہ 24 را پریل 1903 ، صفحہ 11