فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 62

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 29 62 کہ یہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں۔یہ اسی قسم کی ہے جس پر خدا نے واویلا کیا ہے کیونکہ اس کا کوئی نیک اثر اور نیک نتیجہ مترتب نہیں ہوتا۔نرے الفاظ کی بحث میں پسند نہیں کرتا آخر مر کر خدا تعالیٰ کے حضور جانا ہے۔دیکھو ایک مریض جو طبیب کے پاس جاتا ہے اور اس کا نسخہ استعمال کرتا ہے اگر دس ہیں دن تک اس سے کوئی فائدہ نہ ہوتو وہ سمجھتا ہے کہ تشخیص یا علاج میں کوئی غلطی ہے۔پھر یہ کیا اندھیر ہے کہ سالہا سال سے نمازیں پڑھتے ہیں اور اس کا کوئی اثر محسوس اور مشہور نہیں ہوتا۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر دس دن بھی نماز کو سنوار کر پڑھیں تو تنویر قلب ہو جاتی ہے۔مگر یہاں تو پچاس پچاس برس تک نماز پڑھنے والے دیکھے گئے ہیں کہ بدستور رو بدنیا اور سفلی زندگی میں نگو نسار ہیں اور انہیں نہیں معلوم کہ وہ نمازوں میں کیا پڑھتے ہیں اور استغفار کیا چیز ہے؟ اس کے معنوں پر بھی انہیں اطلاع نہیں ہے۔طبیعتیں دو قسم کی ہیں ایک وہ جو عادت پسند ہوتی ہیں جیسے اگر ہندو کا کسی مسلمان کے ساتھ کپڑا بھی چھو جاوے تو وہ اپنا کھانا پھینک دیتا ہے حالانکہ اس کھانے میں مسلمان کا کوئی اثر سرایت نہیں کر گیا زیادہ تر اس زمانہ میں لوگوں کا یہی حال ہو رہا ہے کہ عادت اور رسم کے پابند ہیں اور حقیقت سے واقف اور آشنا نہیں ہیں۔جو شخص دل میں یہ خیال کرے کہ یہ بدعت ہے کہ نماز کے پیچھے دعا نہیں مانگتے۔بلکہ نمازوں میں دعائیں کرتے ہیں یہ بدعت نہیں۔پیغمبر خدا صلی اللہ کے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ نے ادعیہ عربی میں سکھائی تھیں جو ان لوگوں کی اپنی مادری زبان تھی اسی لئے ان کی ترقیات جلدی ہو ئیں۔لیکن جب دوسرے ممالک میں اسلام پھیلا تو وہ ترقی نہ رہی اس کی یہی وجہ تھی کہ اعمال رسم و عادت کے طور پر رہ گئے ان کے نیچے جو حقیقت اور مغز تھا وہ نکل گیا۔اب دیکھ لو مثلاً ایک افغان نماز تو پڑھتا ہے لیکن وہ اثر نماز سے بالکل بے خبر ہے یا درکھو رسم اور چیز ہے اور صلوٰۃ اور چیز۔صلوۃ ایسی چیز ہے کہ اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کا کوئی قریب ذریعہ نہیں۔یہ قرب کی کنجی ہے اسی سے کشوف ہوتے ہیں اسی سے الہامات اور مکالمات ہوتے ہیں یہ دعاؤں کے قبول ہونے کا ایک ذریعہ ہے لیکن اگر کوئی اس کو اچھی طرح سے سمجھ کر ادا نہیں کرتا تو وہ رسم اور عادت کا پابند ہے اور اس سے پیار کرتا ہے جیسے ہندو گنگا سے پیار کرتے ہیں۔ہم دعاؤں سے انکار نہیں کرتے بلکہ ہمارا تو سب سے بڑھ کر دعاؤں کی قبولیت پر ایمان ہے جب کہ خدا تعالیٰ نے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ فرمایا ہے ہاں یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے نماز کے بعد دعا کرنا فرض نہیں ٹھیرایا اور رسول اللہ صلی اللہ سے بھی التزامی طور پر مسنون نہیں ہے، عليه وسلم۔