فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 54
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 54 اور عدم صحت کے سوال کو لے بیٹھتے ہیں۔لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ خدانخواستہ اگر اس نشان کے پورا ہونے سے پہلے ہماری موت آجاتی تو یہی لوگ اسی حدیث کو جسے اب موضوع ٹھہراتے ہیں آسمان پر چڑھا دیتے اور اس سے زیادہ شور مچاتے جواب مچا رہے ہیں۔دشمن اسی ہتھیار کو اپنے لئے تیز کر لیتا لیکن اب جب کہ وہ صداقت کا ایک نشان اور گواہ ٹھہرتا ہے تو اس کو نکما اور لاشے قرار دیا جاتا ہے۔پس ایسے لوگوں کیلئے ہم کیا کہہ سکتے ہیں انہوں نے تو صد ہا نشان دیکھے مگر انکار پر انکار کیا اور صادق کو کا ذب ہی ٹھہرایا اور کس نشان کو انہوں نے مانا جو اس کی امید ان سے رکھیں۔کیا کسوف خسوف کا کوئی چھوٹا نشان تھا؟ اس کے پورا ہونے سے پہلے تو اس کو نشان قرار دیتے رہے مگر جب پورا ہو گیا تو اس کو بھی مشکوک کرنے کی کوشش کی۔بہر حال مخالفوں کی کور چشمی اور تعصب کا کیا علاج ہو سکتا ہے؟ اب رہی اپنی جماعت خدا کا شکر ہے کہ اس کیلئے یہ کوئی ابتلا نہیں ہوسکتا کیونکہ جس نے دمشق کے منارہ پر چڑھنے والے اور فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے زرد پوش مسیح کے اترنے کی حقیقت کو خدا کے فضل سے سمجھ لیا ہے اور جس نے خدا کی صفات والے دجال کا انکار کر کے دجال کی حقیقت حال پر اطلاع پالی ہے اور ایسا ہی دابتہ الارض اور دجال کے متعلق ان لوگوں کے خانہ ساز مجموعوں کو چھوڑا ہے اور اس قدر باتوں پر جب وہ مجھ پر نیک ظن کرنے کے باعث الگ ہو گئے ہیں تو یہ امران کی راہ میں روک اور ابتلا کا باعث کیونکر ہو سکتا ہے؟ یہ بھی یاد رکھو کہ اب بات صرف حسن ظن تک نہیں رہی بلکہ خدا تعالیٰ نے ان کو معرفت اور بصیرت کے مقام تک پہنچا دیا ہے اور وہ دیکھ چکے ہیں کہ میں وہی ہوں جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا۔ہاں میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا اور پھر خدا تعالیٰ نے ان کی معرفت بڑھانے کیلئے منہاج نبوت پر اس قدر نشانات ظاہر کئے کہ لاکھوں انسان ان کے گواہ ہیں۔دوست دشمن دور ونزدیک ہر مذہب وملت کے لوگ ان کے گواہ ہیں۔زمین نے اپنے نشانات الگ ظاہر کئے آسمان نے الگ۔وہ علامات جو میرے لئے مقرر تھیں وہ سب پوری ہوگئیں۔پھر اس قدرنشانات کے بعد بھی اگر کوئی انکار کرتا ہے تو وہ ہلاک ہوتا ہے۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ تم میں سے ہر ایک پر خدا نے ایسا فضل کیا ہے کہ ایک بھی تم میں سے ایسا نہیں جس نے اپنی آنکھوں سے کوئی نہ کوئی