فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 53

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 53 الله الہام کے بدوں نہیں کرتا۔بعض امور ایسے ہوتے ہیں کہ میں ظاہر نہیں کرتا مگر اکثر ظاہر ہوتے ہیں۔جہاں تک خدا تعالیٰ نے مجھ پر اس جمع بین الصلوتین کے متعلق ظاہر کیا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ علیم نے ہمارے لئے تُجْمَعُ لَهُ الصَّلوة کی بھی ایک عظیم الشان پیشگوئی کی تھی جواب پوری ہو رہی ہے۔میرا یہ بھی مذہب ہے کہ اگر کوئی امر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ظاہر کیا جاتا ہے۔مثلاً کسی حدیث کی صحت یا عدم صحت کے متعلق تو گو علمائے ظواہر اور محدثین اس کو موضوع یا مجروح ہی ٹھہر اویں مگر میں اس کے مقابل اور معارض کی حدیث کو موضوع کہوں گا اگر خدا تعالیٰ نے اس کی صحت مجھ پر ظاہر کر دی ہے۔جیسے لا مَهْدِى إِلَّا عِیسی والی حدیث ہے۔محدثین اس پر کلام کرتے ہیں مگر مجھے پر خدا تعالیٰ نے یہی ظاہر کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔اور یہ میرا مذہب میرا ہی ایجاد کردہ مذہب نہیں بلکہ خود یہ مسلم مسئلہ ہے کہ اہل کشف و اہل الہام لوگ محدثین کی تنقید حدیث کے محتاج اور پابند نہیں ہوتے۔خود مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے رسالہ میں اس مضمون پر بڑی بحث کی ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ مامور اور اہل کشف محدثین کی تنقید کے پابند نہیں ہوتے ہیں۔تو جب یہ حالت ہے پھر میں صاف صاف کہتا ہوں کہ میں جو کچھ کرتا ہوں خدا تعالیٰ کے القاء اور اشارہ سے کرتا ہوں۔یہ پیشگوئی جو اس حدیث تُجْمَعُ لَهُ الصَّلوة میں کی گئی ہے یہ مسیح موعود اور مہدی کی ایک علامت ہے۔یعنی وہ ایسی دینی خدمات اور کاموں میں مصروف ہوگا کہ اس کیلئے نماز جمع کی جاویگی۔" الحکم نمبر 42 جلد 6 مؤرخہ 24 رنومبر 1902ءصفحہ 2,1) (۷۲) فرمایا:- " اب یہ علامت جب کہ پوری ہوگئی اور ایسے واقعات پیش آگئے پھر اس کو بڑی عظمت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے نہ کہ استہزاء اور انکار کے رنگ میں۔دیکھو! انسان کے اپنے اختیار میں اس کی موت فوت نہیں ہے۔اب اس نشان کے پورا ہونے پر تو یہ لوگ رکیک اور نا معقول عذر تراشتے ہیں اور اعتراض کے رنگ میں پیش کرتے اور حدیث کی صحت