فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 55

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 55 نشان نہ دیکھا ہو۔کیا کوئی ہے جو کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا؟ ایک بھی نہیں۔پھر ایسی بصیرت اور معرفت بخشنے والے نشانوں کے بعد مجھ پر حسن ظن ہی نہیں رہا بلکہ میری سچائی اور خدا کی طرف سے مامور ہو کر آنے پر تم علی وجہ البصیرت گواہ ہو اور تم پر حجت پوری ہو چکی ہے۔پھر وہ بڑا ہی بد قسمت اور نادان ہوگا جو اتنے نشانوں کے بعد اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر ابتلا میں پڑے جو اس کے ازدیاد ایمان کا موجب اور باعث ہونی چاہئے جو کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ نے فرمایا تھا کہ آنے والے موعود کا یہ بھی ایک نشان ہے کہ اس کیلئے نماز جمع کی جائے گی۔پس تمہیں خدا کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ یہ نشان بھی پورا ہوتا ہوا تم نے دیکھ لیا۔لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ یہ حدیث موضوع ہے تو میں نے پہلے اس کی بابت ایک جواب تو یہ دیا ہے کہ محدثین نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ اہل کشف اور مامور تنقید احادیث میں ان کے اصولوں کے محتاج اور پابند نہیں ہوتے تو پھر جب کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر اس حدیث کی صحت کو ظاہر کر دیا ہے تو اس پر زور دینا تقویٰ کے خلاف ہے۔پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ محدثین خود ہی مانتے ہیں کہ حدیث میں سونے کے کنگن پہننے کی سخت ممانعت ہے مگر وہ کیا بات تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک صحابی کو سونے کے کنگن پہنا دیئے۔چنانچہ اس صحابی نے بھی انکار کیا مگر وہ حضرت عمرؓ نے اس کو پہنا کر ہی چھوڑے۔کیا وہ اس حرمت سے آگاہ نہ تھے؟ تھے اور ضرور تھے مگر وہ آنحضرت علی اللہ کی پیشگوئی کے پورا ہونے پر ہزاروں حدیثوں کو قربان کرنے کو طیار تھے۔اب غور کا مقام ہے کہ جب ایک پیشگوئی کے پورا ہونے نے حرمت کا جواز کرا دیا تو بلا مطر و بلا عذر والی بات پر انکار کیوں؟ احادیث میں تو یہاں تک آیا ہے کہ اپنے خواب کو بھی سچا کرنے کی کوشش کر و چہ جائیکہ نبی کریم کی پیشگوئی۔جس شخص کو ایسا موقع ملے اور وہ عمل نہ کرے اور اس کو پورا کرنے کیلئے تیار نہ ہو وہ دشمن اسلام ہے اور رسول اللہ صلی اللہ کو معاذ اللہ جھوٹا ٹھہرانا چاہتا ہے اور آپ کے مخالفوں کو اعتراض کا موقع دینا چاہتا ہے۔صحابہ خا مذ ہب یہ تھا کہ وہ آنحضرت علی اللہ کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے پر اپنی معرفت اور ایمان عليه وسلم میں ترقی دیکھتے تھے اور وہ اس قدر عاشق تھے کہ اگر آنحضرت سفر کو جاتے اور پیشگوئی کے طور پر کہہ دیتے