فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 42
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 42 (۵۷) وظائف و اورادو تزکیه نفس ایک استفسار کے جواب میں کہ آج کل کے پیر اور گدی نشین وظائف وغیرہ مختلف قسم کے اوراد بتاتے ہیں ۔ آپ کا کیا ارشاد ہے۔ فرمایا کہ:۔ "مومن جو بات سچے یقین سے کہے وہ ضرور مؤثر ہوتی ہے کیونکہ مومن کا مطہر قلب اسرار الہی کا خزینہ ہے۔ جو کچھ اس پاک لوح انسانی پر منقش ہوتا ہے وہ آئینہ خدا نما ہے۔ مگر انسان جب ضعف بشریت سے سہو و گناہ کر بیٹھتا ہے اور پھر ذرا بھی اس کی پرواہ نہیں کرتا تو دل پر سیاہ زنگ بیٹھ جاتا اور رفتہ رفته قلب انسانی که خشیت الہی سے گداز اور شفاف تھا سخت اور سیاہ ہوتا جاتا ہے۔ مگر جونہی انسان اپنی مرض قلب کو معلوم کر کے اس کی اصلاح کے درپے ہوتا ہے اور شب و روز نماز میں دعا ئیں استغفار و زاری و قلق جاری رکھتا ہے اور اس کی دعا ئیں انتہا کو پہنچتی ہیں تو تجلیات الہی اپنے فضل کے پانی سے اس ناپاکی کو دھو ڈالتی ہیں اور انسان بشرطیکہ ثابت قدم رہے ایک قلب لے کر نئی زندگی کا جامہ پہن لیتا ہے گویا کہ اس کا تولد ثانی ہوتا ہے۔ دوز بر دست لشکر ہیں جن کے درمیان انسان چلتا ہے۔ ایک لشکر رحمن کا دوسرا شیطان کا ۔ اگر یہ لشکر رحمان کی طرف جھک جاوے اور اس سے مدد طلب کرے تو اس سے بحکم الہی مدد دی جاتی ہے اور اگر شیطان کی طرف رجوع کیا تو گناہوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پس انسان کو چاہئے کہ گناہ کی زہریلی ہوا سے بچنے کیلئے رحمن کی حفاظت میں ہو جاوے۔ وہ چیز جو انسان اور رحمن میں دوری اور تفرقہ ڈالتی ہے وہ فقط گناہ ہی ہے جو اس سے بچ گیا اس نے اللہ تعالیٰ کی گود میں پناہ لی ۔ دراصل گناہ سے بچنے کیلئے دو ہی طریق ہیں۔ اول یہ کہ انسان خود کوشش کرے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ سے جو زبردست مالک و قادر ہے استقامت طلب کرے یہاں تک کہ اسے پاک زندگی میسر آوے اور یہی تزکیہ نفس کہلاتا ہے اور بندوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انعامات و اکرامات ہوتے ہیں وہ محض اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہی ہوتے ہیں۔ پیروں فقیروں صوفیوں گدی نشینوں کے خود تراشیدہ درود وظائف طریق و رسومات سب فضول بدعات ہیں جو ہرگز ہرگز ماننے کے