فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 43
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 43 قابل نہیں۔اگر یہ لوگ کل معاملات دنیوی و دینی کو ان خود ساختہ بدعات سے بھی درست کر سکتے ہیں تو یہ ذرہ ذرہ سی بات پر کیوں تکرار کرتے لڑتے جھگڑتے حتی کہ سرکاری عدالتوں میں جائز و نا جائز حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔یہ سب باتیں دراصل وقت کا ضائع کرنا اور خدا داد دماغی استعدادوں کا تباہ کرنا ہے۔انسان اس لئے نہیں بنایا گیا کہ لمبی تسبیح لے کر صبح و شام لوازمات و حقوق کو تلف کر کے بے تو جنگی سے سبحان اللہ سبحان اللہ میں لگا رہے۔اپنا اوقات گرامی بھی تباہ کرے اور خود اپنی قومی کو تباہ کرے اور اوروں کے تباہ کرنے کیلئے شب و روز کوشاں رہے۔اللہ تعالیٰ ایسی معصیت سے بچاوے۔الغرض یہ سب باتیں سنت نبوی صلی اللہ کو چھوڑنے سے پیدا ہوئیں۔یہ حالت ایسی ہے جیسے پھوڑا کہ اندر سے تو پیپ سے بھرا ہوا ہے اور باہر سے شیشے کی طرح چمکتا ہے۔زبان سے تو درود وظائف کرتے ہیں اور اندرونے بدکاری و گناہ سے سیاہ ہوئے ہوئے ہیں۔انسان کو چاہئے کہ سب کچھ خدا سے طلب کرے۔جب وہ کسی کو کچھ دیدیتا ہے تو اس کی بلندشان کے خلاف ہے کہ واپس لے۔تزکیہ وہی ہے جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ذریعہ دنیا میں سکھایا گیا پیدا کیا گیا یہ لوگ اس سے بہت دور ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ میں سارے دن میں چار دفعہ دم لیتا ہوں۔بعض فقط ایک یا دو دفعہ۔اس سے لوگ ان کو ولی سمجھ بیٹھتے ہیں اور ایسے واہیات دم کشی کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔حالانکہ فخر کے قابل یہ بات ہے کہ انسان مرضیات الہی پر چل کر اپنے پیغمبر نبی کریم سے صلح و آشتی پیدا کرے۔جس سے کہ وہ انبیاء کا وارث کہلائے۔اور صلح و ابدال میں داخل ہو۔اسی تو حید کو پکڑے اور اس پر ثابت قدم رہے۔اللہ تعالیٰ اپنا غلبہ وعظمت اس کے دل پر بٹھا دے گا۔وظیفوں کے ہم قائل نہیں یہ سب منتر جنتر ہیں جو ہمارے ملک کے جوگی ہندو سنیاسی کرتے ہیں جو شیطان کی غلامی میں پڑے ہوئے ہیں البتہ دعا کرنی چاہئے خواہ اپنی ہی زبان میں ہو۔بچے اضطراب اور سچی تڑپ سے جناب الہی میں گداز ہوا ہوا ایسا کہ وہ قادر الحی القیوم دیکھ رہا ہے۔جب یہ حالت ہوگی تو گناہ پر دلیری نہ کرے گا۔جس طرح انسان آگ یا اور ہلاک کرنے والی اشیاء سے ڈرتا ہے ویسے ہی اس کو گناہ کی سوزش سے ڈرنا چاہئے۔گنہ گار زندگی انسان کیلئے دنیا میں مجسم