فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 41
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والہ 41 کس قدرزمین کو کھودنا پڑتا ہے جو لوگ تھک جاتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں جو تھکتے نہیں وہ آخر نکال ہی لیتے ہیں۔اس لئے اس ذوق کو حاصل کرنے کیلئے استغفار، کثرت نماز و دعا، مستعدی اور صبر کی ضرورت ہے۔" (۵۶) الحکم نمبر 20 جلد 7 مؤرخہ 31 مئی 1903 ، صفحہ 9) مولوی نظیر حسین سخا دہلوی نے بذریعہ عریضہ حضرت اقدس سے نماز میں حصول حضور کا طریق دریافت کیا۔اس پر حضرت اقدس نے مندرجہ ذیل جواب تحریر فرمایا:۔طریق یہی ہے کہ نماز میں اپنے لئے دعا کرتے رہیں اور سرسری اور بے خیال نماز پر خوش نہ ہوں بلکہ جہاں تک ممکن ہو تو جہ سے نماز ادا کریں اور اگر توجہ پیدا نہ ہو تو پنج وقت ہر یک نماز میں خدا تعالیٰ کے حضور میں بعد ہر ایک رکعت کے کھڑے ہو کر یہ دعا کریں کہ اے خدائے قادر ذوالجلال میں گنہگار ہوں اور اس قدر گناہ کی زہر نے میرے دل اور رگ و ریشہ میں اثر کیا ہے کہ مجھے رقت اور حضور نماز حاصل نہیں ہو سکتا۔تو اپنے فضل و کرم سے میرے گناہ بخش اور میری تقصیرات معاف کر اور میرے دل کو نرم کر دے اور میرے دل میں اپنی عظمت اور اپنا خوف اور اپنی محبت بٹھا دے تا کہ اس کے ذریعہ سے میری سخت دلی دور ہو کر حضور نماز میں میسر آوے اور یہ دعا صرف قیام پر موقوف نہیں بلکہ رکوع میں اور سجود میں اور التحیات کے بعد بھی یہی دعا کریں اور اپنی زبان میں کریں اور اس دعا کے کرنے میں ماندہ نہ ہوں اور تھک نہ جاویں بلکہ پورے صبر اور پوری استقامت سے اس دعا کو پنچ وقت کی نمازوں میں اور نیز تہجد کی نماز میں کرتے رہیں اور بہت بہت خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں کیونکہ گناہ کے باعث دل سخت ہو جاتا ہے۔ایسا کرو گے تو ایک وقت یہ مراد حاصل ہو جائے گی۔مگر چاہئے کہ اپنی موت یا درکھیں آئندہ زندگی کے دن تھوڑے سمجھیں اور موت قریب سمجھیں۔یہی طریق حضور حاصل کرنے کا ہے۔" ( اخبار بد نمبر 20 و 21 جلد 3 مؤرخہ 24 رمئی و یکم جون 1904 ء صفحہ 9) الحکم نمبر 17 جلد 8 مؤرخہ 24 رمئی 1904ء صفحہ 2)