فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 277

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 277 اس پر حضرت حکیم الامت نے عرض کی کہ بعض معاملات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ اصل میں حق پر کون ہے۔فرمایا :۔ایسی صورتوں میں استفتاء قلب کافی ہے اس میں شریعت کا حصہ رکھا گیا ہے۔میں نے جو کچھ کہا ہے اس پر اگر زیادہ غور کی جاوے تو امید ہے قرآن شریف سے بھی کوئی نص مل جاوے۔" فرمایا:۔الحکم نمبر 29 جلد 6 مؤرخہ 17 اگست 1902، صفحه 8) (۳۷۶) شراب نوشی " مثلاً ایک شراب ہی کو دیکھو جو ام الخبائث ہے جس سے طرح طرح کے نفسانی جوش پیدا ہو کر کبھی انسان مرتکب فسق و فجور کا ہوتا ہے اور کبھی خونریزی کا ارتکاب کرتا ہے اور بلاشبہ یہ تمام گناہوں کی ماں ہے مگر نہ صرف یہودیوں کے اعتراضات سے بلکہ انجیل سے بھی ثابت ہے کہ حضرت مسیح تمام عمر اس کے مرتکب رہے اسی وجہ سے عیسائیوں کی عشاء ربانی کی بھی یہ ایک جز ہے اور انجیل میں حضرت مسیح اقرار کرتے ہیں کہ یوحنا شراب نہیں پیتا تھا مگر اپنی نسبت مبالغہ سے کھاؤ پیو کا لفظ استعمال کیا ہے غرض اس میں کسی کو بھی کلام نہیں کہ یسوع مسیح شراب پیا کرتا تھا۔چنانچہ پر چہ اخبارا پی فنی ۲۷ را پریل ۱۹۰۱ء میں بھی جو ایک مشہور پادریوں کا پرچہ انگریزی زبان میں کلکتہ سے نکلتا ہے یہ عبارت ہے " مسیح گوشت بھی کھاتا تھا اور شراب بھی پیتا تھا۔" اور کتاب دانی ایل باب اوّل میں شراب کو نا پاک قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ دانی ایل اس کو نا پاک سمجھتا تھا لیکن اصل بات یہ ہے کہ شراب ایسی خبیث چیز ہے کہ اس کا پلید ہونا اس بات کا محتاج نہیں کہ توریت یا انجیل یا کسی دوسرے صحیفہ میں اس کو پلید اور ناپاک لکھا ہو۔بلکہ اگر فرض کے طور پر کسی کتاب نے شراب کی تعریف کی ہو تو شراب اس سے قابل تعریف نہیں ٹھہرے گی۔ہاں اس کتاب پر اعتراض آئے گا کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔جس چیز کے عیب اور مضر تیں تجارب سے کھل گئے ہوں اس میں ہم کسی کتاب کی شہادت کے محتاج نہیں ہیں۔ہزاروں قسم کی زہریں اور خبیث چیزیں دنیا میں موجود ہیں جن کی مضرتیں تجربہ نے ہم پر کھول دی ہیں۔پس ضرور نہیں کہ ہم ان چیزوں کو خبیث ٹھہرانے کیلئے آسمانی کتابوں کی ورق گردانی کریں۔ان سب میں سے