فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 276
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 276 طلب کرتا ہے کہ انہی دنیا کے امور میں مبتلا ہو۔(اگر اس کا ارادہ خدمت دین ہو تو اس کا صحت کا طلب کرنا گویا منشائے الہی کے مطابق ہوگا )۔" اسی بیمار کی نسبت ذکر ہوا کہ اس نے کئی سو روپیہ لوگوں سے لینا ہے مگر صرف چند روپوں کے کاغذات ہیں باقی تمام زبانی لین دین ہے اور اس کی دولڑ کیاں ہیں۔بعض احباب نے تجویز کیا کہ جو کچھ رقوم لوگوں کے ذمہ ہیں اور وہ تحریر میں نہیں آئیں تو چاہئے کہ اب دو آدمی گواہ مقرر کر کے اس کی زندگی میں وہ رقمیں ان مقروضوں سے منوالی جاویں اور تحریر کرالی جاوے۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ:۔اس کی ضرور کوشش کرنی چاہئے۔یہ بڑے ثواب کی بات ہے۔ممکن ہے کہ اگر وہ مر جاوے تو بے چاری لڑکیوں کو ہی کچھ فائدہ پہنچ جاوے۔" یہ میں نے اس لئے لکھا ہے کہ اس قسم کی احتیاطوں کو ایسے نازک موقعوں پر مد نظر رکھا جاوے اور سہل انگاری سے ان معاملات کو ترک نہ کیا جاوے۔(ایڈیٹر ) ( اخبار بدر نمبر 41 42 43 جلد 3 مؤرخہ یکم و 8 نومبر 1904 ، صفحہ 9) (۳۷۵) رشوت حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب نے عرض کی کہ حضور ایک سوال اکثر آدمی دریافت کرتے ہیں کہ ان کو بعض وقت ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ جب تک وہ کسی اہلکار وغیرہ کو کچھ نہ دیں ان کا کام نہیں ہوتا اور وہ تباہ کر دیتے ہیں۔فرمایا:۔"میرے نزدیک رشوت کی یہ تعریف ہے کہ کسی کے حقوق کو زائل کرنے کے واسطے یا ناجائز طور پر گورنمنٹ کے حقوق کو دبانے یا لینے کیلئے کوئی مابہ الاحتفاظ کسی کو دیا جائے لیکن اگر ایسی صورت ہو کہ کسی دوسرے کا اس سے کوئی نقصان نہ ہو اور نہ کسی دوسرے کا کوئی حق ہو صرف اس لحاظ سے کہ اپنے حقوق کی حفاظت میں کچھ دید یا جاوے تو کوئی حرج نہیں اور یہ رشوت نہیں بلکہ اس کی مثال ایسی ہے کہ ہم راستہ پر چلے جاویں اور سامنے کوئی کتا آجاوے تو اس کو ایک ٹکڑا روٹی کا ڈال کر اپنے طور پر جاویں اور اس کے شر سے محفوظ رہیں۔"