فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 278
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 278 اول درجہ پر شراب ہے۔دنیا میں ہزاروں شہادتیں اس کی مضرت اور خباثت پر موجود ہیں ان سب کا لکھنا موجب تطویل ہے۔" ریویو آف ریلیچز جلد اوّل نمبر 3 مارچ 1902 صفحہ 111,110 ) فرمایا:۔دنیا میں نفسانی خواہشوں کو پورا کرنے کیلئے بڑے بڑے دو گناہ ہیں۔ایک شراب نوشی اور ایک بدکاری۔اب کہو کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ان دو گناہوں میں یورپ کے اکثر مردوں اور عورتوں نے پورا حصہ لیا ہے۔بلکہ میں اس بات میں مبالغہ نہیں دیکھتا کہ شراب نوشی میں ایشیا کے تمام ملکوں کی نسبت یورپ بڑھا ہوا ہے اور یورپ کے اکثر شہروں میں شراب فروشی کی اس قدر دکا نیں ملیں گی کہ ہمارے قصبوں کی ہر قسم کی دکانیں ملا کر بھی ان سے کمتر ہوں گی اور تجر بہ شہادت دے رہا ہے کہ تمام گناہوں کی جڑ شراب ہے کیونکہ وہ چند منٹ میں ہی بدمست بنا کر خون کرنے تک دلیر کر دیتی ہے اور دوسری قسم کا فسق و فجور اس کے ضروری لوازم ہیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں اور اس پر زور دیتا ہوں کہ شراب اور تقویٰ ہرگز جمع نہیں ہو سکتے۔اور جو شخص اس کے بدتیجوں سے آگاہ نہیں وہ عقلمند ہی نہیں اور اس میں ایک اور بڑی مصیبت ہے کہ اس کی عادت کو ترک کرناہر ایک کا کام نہیں۔" فرمایا:۔ریویو آف ریلیجنز جلد اوّل نمبر 1 جنوری 1902 ء صفحہ 23) (۳۷۷) معراج احادیث میں مسیح موعود کیلئے نزول من السماء نہیں لکھا نزول کا لفظ ہے اور یہ اظلالی معنی رکھتا ہے نہ کہ حقیقی۔نزیل لغت میں مسافر کو کہتے ہیں کیا وہ آسمان سے اترتا ہے۔بہر حال قرآن ہر میدان میں فتحیاب ہے۔آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا اور آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ کہہ کر مسیح موعود کو اپنا بروز بتا دیا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت علی الا اللہ معراج کی رات اسی جسم کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں مگر وہ نہیں دیکھتے کہ قرآن شریف اس کو رڈ کرتا ہے اور حضرت عائشہ " بھی رؤیا کہتی ہیں۔حقیقت میں معراج ایک کشف تھا جو بڑا عظیم الشان اور صاف کشف تھا اور اتم اور اکمل تھا۔