فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 274
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 274 کوئی ایسا خلق اللہ کے فائدہ کا کام وہ دنیا میں کر گیا ہے جس سے بندگان خدا کو کسی قسم کی مدد یا آرام پہنچتا ہے تو اس خیر جاری کی برکت سے وہ کھڑ کی اس کی جو بہشت کی طرف کھولی گئی دن بدن اپنی کشادگی میں زیادہ ہوتی جاتی ہے اور سَبَقَتْ رَحْمَتِی عَلی غَضَبِی کا منشاء اور بھی اس کو زیادہ کرتا جاتا ہے۔یہاں تک وہ کھڑ کی ایک بڑا وسیع دروازہ ہو کر آخر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ شہیدوں اور صدیقوں کی طرح وہ بہشت میں ہی داخل ہو جاتا ہے۔اس بات کو سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات شرعاً وانصافاً وعقلاً بیہودہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ باوجود اس کے کہ ایک مرد مسلم فوت شدہ کے بعد ایک قسم کی خیر اس کیلئے جاری رہے اور ثواب اور اعمال صالحہ کی بعض وجوہ اس کیلئے کھلی رہیں مگر پھر بھی وہ کھڑ کی جو بہشت کی طرف اس کیلئے کھولی گئی ہے ہمیشہ اتنی کی اتنی رہے جو پہلے دن کھولی گئی تھی۔" (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 285 مطبوعہ نومبر 1984ء) (۳۷۰) صدقہ میت کے متعلق ایک شخص نے سوال کیا کہ میت کے ساتھ جو لوگ روٹیاں پکا کر یا اور کوئی شے لے کر با ہر قبرستان میں لے جاتے ہیں اور میت کو دفن کرنے کے بعد مساکین میں تقسیم کرتے ہیں اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ فرمایا:۔سب باتیں نیت پر موقوف ہیں اگر یہ نیت ہو کہ اس جگہ مساکین جمع ہو جایا کرتے ہیں اور مردے کو صدقہ پہنچ سکتا ہے۔ادھر وہ دفن ہو ادھر مساکین کو صدقہ دیدیا جاوے تا کہ اس کے حق میں مفید ہو اور وہ بخشا جاوے تو یہ ایک عمدہ بات ہے لیکن اگر صرف رسم کے طور پر یہ کام کیا جاوے تو جائز نہیں ہے۔کیونکہ اس کا ثواب نہ مردے کیلئے اور نہ دینے والوں کے واسطے اس میں کچھ فائدے کی ت ہے۔' اخبار بدر نمبر 7 جلد 2 مؤرخہ 16 فروری 1906 ء صفحہ 2) (۳۷۱) اسقاط ایک شخص نے سوال کیا کہ کسی شخص کے مرجانے پر جو اسقاط کرتے ہیں اس کے متعلق کیا حکم ہے۔فرمایا:۔