فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 273

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 273 (۳۶۷) چھ برائے برآمدگی مرادز بیجہ دینا سوال پیش ہوا کہ برائے برآمدگی مراد یا سیرابی ملک یا بطور چٹھ جو لوگ ذبیحہ دیتے ہیں جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا کہ:۔"جائز نہیں ہے۔" " ( اخبار بدر نمبر 11 جلد 6 مؤرخہ 14 / مارچ 1907 صفحہ 5) (۳۶۸) صدقہ جاریہ ایک شخص کا خط حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا کہ انسان اپنی زندگی میں کس طرح کا صدقہ جاریہ چھوڑ جائے کہ مرنے کے بعد قیامت تک اس کا ثواب ملتا ر ہے۔فرمایا کہ:۔" قیامت تک کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے۔ہاں ہر ایک عمل انسان کا جو اس کے مرنے کے بعد اس کے آثار دنیا میں قائم رہیں وہ اس کے واسطے موجب ثواب ہوتا ہے۔مثلاً انسان کا بیٹا ہو اور وہ اسے دین سکھلائے اور دین کا خادم بنائے تو یہ اس کے واسطے صدقہ جاریہ ہے جس کا ثواب اس کو ملتا رہے گا۔اعمال نیت پر موقوف ہیں ہر ایک عمل جو نیک نیتی کے ساتھ ایسے طور سے کیا جائے کہ اس کے بعد قائم رہے وہ اس کے واسطے صدقہ جاریہ ہے۔" فرمایا:۔( اخبار بدر نمبر 14 جلد 6 مؤرخہ 4 اپریل 1907 ء صفحہ 7) (۳۶۹) مردے کیلئے دعا یا صدقہ اس ترقی کی ایک یہ بھی صورت ہے کہ جب مثلاً ایک شخص ایمان اور عمل کی ادنیٰ حالت میں فوت ہوتا ہے تو تھوڑی سی سوراخ بہشت کی طرف اس کیلئے نکالی جاتی ہے کیونکہ بہشتی تجلی کی اُسی قدر اس میں استعداد موجود ہوتی ہے۔پھر بعد اس کے اگر وہ اولا دصالح چھوڑ کر مرا ہے جو جد و جہد سے اس کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور صدقات و خیرات اس کی مغفرت کی نیت سے مساکین کو دیتے ہیں یا ایسے کسی اہل اللہ سے اس کی محبت تھی جو تضرعات سے جناب الہی سے اس کی بخشش چاہتا ہے یا