فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 262
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 262 نیت کا دیکھنا ہی ضروری ہے۔اگر کوئی شخص ملازم ہے اور اسے مثلاً جمعہ کے دن ہی رخصت مل سکتی ہے تو حرج نہیں کہ وہ اپنے ایسے کاموں کے واسطے جمعہ کا دن مقرر کرے۔غرض جب تک کوئی ایسا فعل نہ جس میں شرک پایا جائے۔صرف کسی کو ثواب پہنچانے کی خاطر طعام کھلا نا جائز ہے۔" نہ ہو ( اخبار بدر نمبر 32 جلد 6 مؤرخہ 8 راگست 1907 ء صفحہ 5) (۳۴۷) پندرہویں شعبان کی بدعات نصف شعبان کی نسبت فرمایا کہ:۔" یہ رسوم حلوا وغیرہ سب بدعات ہیں۔" (اخبار بدر نمبر 39 جلد 6 مؤرخہ 26 ستمبر 1907 ء صفحه (7) (۳۴۸) ناول نویسی و ناول خوانی حضرت اقدس مسیح موعود کی خدمت میں ایک سوال پیش ہوا کہ ناولوں کا لکھنا اور پڑھنا کیسا ہے۔فرمایا کہ:۔" ناولوں کے متعلق وہی حکم ہے جو آنحضرت نبی کریم علیہ اللہ نے اشعار کے متعلق فرمایا ہے حَسَنَهُ حَسَنٌ وَ قَبِيْحُهُ قَبِيحُ اس کا اچھا حصہ اچھا ہے اور فتح فتیح ہے۔اعمال نیت پر موقوف ہیں۔مثنوی مولوی رومی میں جو قصے لکھے ہیں وہ سب تمثیلیں ہیں اور اصل واقعات نہیں ہیں۔ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام تمثیلوں سے بہت کام لیتے تھے یہ بھی۔ایک قسم کے ناول ہیں۔جو ناول نیت صالح سے لکھے جاتے ہیں۔زبان عمدہ ہوتی ہے۔نتیجہ نصیحت آمیز ہوتا ہے اور بہر حال مفید ہیں ان کے حسب ضرورت و موقعہ لکھنے پڑھنے میں گناہ نہیں۔" ( اخبار بدر نمبر 36 جلد 6 مؤرخہ 05 ستمبر 1907 صفحہ 3) (۳۴۹) لڑکے کی بسم اللہ ایک شخص نے بذریعہ تحریر عرض کی کہ ہمارے ہاں رسم ہے کہ جب بچے کو بسم اللہ کرائی جاوے تو بچے کو تعلیم دینے والے مولوی کو ایک عدد شتی چاندی یا سونے کی اور قلم دوات چاندی یا سونے کی دی