فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 260
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 260 (۳۴۲) مصیبت زدہ و ماتم والے کے ساتھ ہمدردی حضرت کی خدمت میں سوال پیش ہوا کہ کیا یہ جائز ہے کہ جب کار قضاء کسی بھائی کے گھر میں ما تم ہو جائے تو دوسرے دوست اپنے گھر میں اس کا کھانا تیار کریں۔ فرمایا:۔ نہ صرف جائز بلکہ برادرانہ ہمدردی کے راہ سے یہ ضروری ہے کہ ایسا کیا جاوے۔" اخبار بدر نمبر 28 جلد 6 مؤرخہ 11 جولائی 1907 ء صفحہ (3) (۳۴۳) کنوئیں کو پاک کرنا سوال ہوا کہ یہ جو مسئلہ ہے کہ جب چوہا یا بلی یا مرغی یا بکری یا آدمی کنوئیں میں مر جاویں تو اتنے دلو پانی نکالنے چاہئیں۔ اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے۔ پہلے تو ہمارا یہی عمل تھا کہ جب تک رنگ، بو، مزہ نہ بدلے پانی کو پاک سمجھتے ۔ فرمایا:۔ "ہمارا تو وہی مذہب ہے جو احادیث میں آیا ہے۔ یہ جو حساب ہے کہ اتنے دلو نکالوا اگر فلاں جانور پڑے اور اتنے اگر فلاں پڑے۔ یہ ہمیں تو معلوم نہیں اور نہ اس پر ہمارا عمل ہے۔" فرمایا: عرض کیا گیا کہ حضور نے فرمایا ہے جہاں سنت صحیحہ سے پتہ نہ ملے وہاں حنفی فقہ پر عمل کر لو۔ " فقہ کی معتبر کتابوں میں بھی کب ایسا تعین ہے۔ ہاں نجات المؤمنین میں لکھا ہے۔ سو اس میں تو یہ بھی لکھا ہے۔ سر ٹوئے وچ دے کے بیٹھ نماز کرے۔ کیا اس پر کوئی عمل کرتا ہے اور کیا یہ جائز ہے جب کہ حیض و نفاس کی حالت میں نماز منع ہے۔ پس ایسا ہی یہ مسئلہ بھی سمجھ لو۔ میں تمہیں ایک اصل بتا دیتا ہوں کہ قرآن مجید میں آیا ہے وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ - پس جب پانی کی حالت اس قسم کی ہو جائے جس سے صحت کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو تو صاف کر لینا چاہیئے ۔ مثلاً پتے پڑ جاویں یا کیڑے وغیرہ (حالانکہ اس پر یہ ملاں نجس ہونے کا فتویٰ نہیں دیتے ) باقی یہ کوئی مقدار مقرر ہیں ۔ جب تک رنگ بو و مزه نجاست سے نہ بدلے وہ پانی پاک ہے۔" اخبار بدر نمبر 31 جلد 6 مؤرخہ یکم اگست 1907 ء صفحه (12)