فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 259

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 259 بموجب حدیث صحیح کے یہ فتویٰ ہے کہ اگر طاعون کی ابتدائی حالت ہو تو اس شہر سے نکل جانا چاہئے۔اور اگر طاعون زور پکڑ جائے تو نہیں جانا چاہئے۔مگر مضائقہ نہیں کہ اسی گاؤں کی سرزمین میں باہر سکونت اختیار کریں۔" اخبار بدر نمبر 25 جلد 6 مؤرخہ 20 جون 1907 ء صفحہ 2) (۳۴۰) نرخ اشیاء سوال پیش ہوا کہ بعض تاجر جو گلی کوچوں میں یا بازار میں اشیاء فروخت کرتے ہیں۔ایک ہی چیز کی قیمت کسی سے کم لیتے ہیں اور کسی سے زیادہ۔کیا یہ جائز ہے؟ فرمایا:۔"مالک شے کو اختیار ہے کہ اپنی چیز کی قیمت جو چاہے لگائے اور مانگے۔لیکن وقت فروخت تراضی طرفین ہو اور بیچنے والا کسی قسم کا دھوکا نہ کرے مثلاً ایسا نہ ہو کہ چیز کے خواص وہ نہ ہوں جو بیان کئے جاویں یا اور کسی قسم کا دغا خریدار سے کیا جاوے اور جھوٹ بولا جاوے اور یہ بھی جائز نہیں کہ بچے یا ناواقف کو پائے تو دھوکا دے کر قیمت زیادہ لے لے جس کو اس ملک میں لگا دا لگانا کہتے ہیں۔یہ ناجائز ہے۔" ( اخبار بد نمبر 20 جلد 6 مؤرخہ 16 مئی 1907 ء صفحہ 10 ) (۳۴۱) طاعون زدہ علاقہ سے باہر نکلنا ایک دوست نے ذکر کیا کہ ہمارے گاؤں میں طاعون ہے۔فرمایا کہ:۔" گاؤں سے فوراً باہر نکل جاؤ اور کھلی ہوا میں اپنا ڈیرہ لگاؤ۔مت خیال کرو کہ طاعون زدہ جگہ سے باہر نکلنا انگریزوں کا خیال ہے اور اس واسطے اس کی طرف توجہ کرنا فرض نہیں۔یہ بات نہیں طاعون والی جگہ سے باہر نکلنا یہ فیصلہ شرعی ہے۔گندی ہوا سے اپنے آپ کو بچاؤ۔جان بوجھ کر ہلاکت میں مت پڑو۔اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں کرو اور خدا تعالیٰ سے اپنے گناہ بخشوا ؤ کہ وہ قادر خدا ہے اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔باوجود ان احتیاطوں کے اگر تقدیر آ ہی جاوے تو صبر کرو۔" اخبار بدر نمبر 20 جلد 6 مؤرخہ 16 مئی 1907 ء صفحہ 6)