فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 236
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 236 اختلال معلوم ہوتا ہے یا جب دل میں تشیخ ہوتا ہے۔خدائے وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ بجز اس کے مجھے ضرورت نہیں پڑتی۔بیٹھے بیٹھے جب بہت محنت کرتا ہوں تو ایک دفعہ ہی دورہ ہوتا ہے۔بعض وقت ایسی حالت ہوتی ہے کہ قریب ہے کہ غش آجاوے اس وقت علاج کے طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے اور اسی لئے ہر روز باہر سیر کو جاتا ہوں۔مگر مولوی عبد اللہ جو کچھ کرتے تھے یعنی مرغ۔انگور۔انڈے وغیرہ جو استعمال کرتے تھے اس کی وجہ کثرت ازدواج تھی اور کوئی سبب نہ تھا۔انبیاء علیہ السلام ان چیزوں کو استعمال کرتے تھے مگر وہ خدا کی راہ میں فدا تھے۔آنحضرت ع اللہ جب کبھی گھبراتے تھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ران پر ہاتھ مار کر کہتے اے عائشہ ہم کو راحت پہنچا۔آنحضرت کیلئے تو سارا جہان دشمن تھا پھر اگر ان کیلئے کوئی راحت کا سامان نہ ہو تو یہ خدا کی شان کے ہی خلاف ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہوتی ہے کہ جیسے کافور کے ساتھ دو چار مرچیں رکھی جاتی ہیں کہ اُڑ نہ جاوے۔" فرمایا:۔الحکم نمبر 24 جلد 6 مؤرخہ 10 جولائی 1902 ، صفحہ 3) " جولوگ افیون کھاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں موافق آگئی ہے۔وہ موافق نہیں آتی دراصل وہ اپنا کام کرتی رہتی ہے اور قومی کو نابود کر دیتی ہے۔" الحکم نمبر 37 جلد 6 مؤرخہ 17 اکتوبر 1902 ء صفحہ 12 ) (۳۰۱) عیسائیوں سے معانقت اور ان کے ساتھ کھانا قبل نماز ظہر حضرت اقدس سے دریافت کیا گیا کہ عیسائیوں کے ساتھ کھانا اور معانقہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔" میرے نزدیک ہرگز جائز نہیں۔یہ غیرت ایمانی کے خلاف ہے کہ وہ لوگ ہمارے نبی اللہ علی السلم کو گالیاں دیں اور ہم ان سے معانقہ کریں۔قرآن شریف ایسی مجلسوں میں بیٹھنے سے بھی منع فرماتا ہے جہاں اللہ اور اس کے رسول کی باتوں پر جنسی اُڑائی جاتی ہے اور پھر یہ لوگ خنزیر خور ہیں ان