فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 233
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیلئے تیار ہو جاوے تو پھر وہ آرام بھی پاتا ہے۔233 ماسوا اس کے ایک اور مشکل یہ بھی ہوتی ہے کہ افیونی یا شرابی یا اور کسی قسم کا نشہ کھانے والے کو تو اس کے گھر والے بھی پسند نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ وہ ان نشوں کو چھوڑ دے کیونکہ جس قدر وہ نشے میں غرق رہے گا اسی قدر معاش میں ست اور غافل ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ بیوی بچے والدین سب اس سے ناراض ہونگے اور کوشش کرتے رہیں گے کہ کسی طرح وہ ان نشوں سے باز آوے مگر بعض عادتیں اور گناہ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ گھر والے اور کنبہ والے ان کے حامی ہو جاتے ہیں مثلاً رشوت لینے والا اگر تو بہ کرے اور رشوت سے باز آوے تو بیوی ناراض ہوگی والدین ناراض ہوں گے کیونکہ بظاہر ان کے مفاد اور آمدنی میں فرق آئے گا اور وہ کب گوارا کریں گے کہ ایسا ہو۔اس قسم کی صورتوں میں تو وہ اس کے گناہ کی عادتوں کے حامی اور معاون ہوں گے۔ایسا ہی ایک زمیندار اپنے کاروبار کو چھوڑ کر جب نماز پڑھنے لگے تو گھر والے کب پسند کریں گے کہ وہ ہل چھوڑ دے اور نماز میں لگا رہے وہ تو اسے ملامت کریں گے یا کب وہ چاہیں گے کہ یہ روزہ رکھ کر سست ہو اور کام نہ کرے۔اسی طرح پر چوری یا قمار بازی کی عادت رکھنے والے بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے گھر والے ان کی حمایت کرتے ہیں اور پھر ان کو ان عادتوں سے باز آنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ایک تو ان کا نفس ہی جو عادت کا خوکر دہ ہوتا ہے۔ان بدیوں کو چھوڑنا نہیں چاہتا پھر گھر والے بھی حامی ہوتے ہیں۔اس لئے تو بہ کرنا بہت ہی مشکل ہے لیکن جو بچی تو بہ اختیار کرتا ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے بڑے فضلوں کا وارث بنتا ہے۔آجکل طاعون کے سبب انسانوں کی زندگی بڑی مشکل اور خطرہ میں پڑی ہوئی ہے اب یا انسان اس مشکل کو اختیار کرے جو گناہوں سے تو بہ کرنے میں ہے اور جو خدا کے فضل کا وارث بنا دیتی ہے یا اس مشکل کو اختیار کرے جو آخر تباہ کر دیتی ہے۔عقلمند جانتا ہے کہ تو بہ ہی بہتر ہے۔یہ مت سمجھو کہ فریب یا دعا سے کوئی رزق کما سکتا ہے۔رزق دینے والا اللہ ہی ہے۔قرآن شریف میں وعدہ ہے کہ جو شخص تو کل کرے گا اور متقی ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو خو د رزق دے گا جیسے فرمایا مَنْ يُتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ یعنی جو شخص اللہ سے ڈر کر گناہ کو چھوڑ دے گا تو میں ہر ایک تنگی سے