فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 232
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 232 (۲۹۸) بھنگ، چرس، افیون و عادات بد کا چھوڑ نا و عہد بیعت پر ثابت قدم فرمایا:۔رہنا " بہت لوگ بیعت کی حقیقت نہیں سمجھتے۔اس لئے یاد رکھو کہ تم نے آج اللہ تعالیٰ کی جناب میں اپنے پچھلے گناہوں کا اقرار کر کے آئندہ کیلئے تو بہ کی ہے کہ کوئی گناہ صغیرہ ہو یا کبیرہ نہیں کریں گے۔یہ وہ عہد اور اقرار ہے جو تم نے میرے ہاتھ پر خدا تعالیٰ کے ساتھ کیا ہے۔اس لئے تم کو چاہئے کہ اپنے اس اقرار اور عہد کے موافق جہاں تک تمہاری سمجھ اور طاقت ہے گناہوں سے بچتے رہو کیونکہ اس اقرار کی دو تا شیریں ہوتی ہیں یا تو آئندہ زندگی میں یہ فضل کا وارث بنادیتا ہے جب کہ وہ اپنے عہد پر قائم رہے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق اس پر رحمت نازل کرے گا اور جب اس عہد اور اقرار کو توڑے گا تو پھر عذاب کا مستحق ہوگا کیونکہ جب وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو توڑتا ہے تو گویا اللہ تعالیٰ کی توہین کرتا ہے۔دنیا میں دیکھ لو کہ جب ایک آدمی کسی سے کوئی اقرار کر کے اسے توڑتا ہے تو وہ جرم عہد شکنی کا مرتکب ہوتا ہے اور سزا پاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے ساتھ جو عہد کر کے توڑتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے حضور مجرم ٹھہرایا جاتا ہے اور اسے سزا ملتی ہے۔پس آج کے جمعہ کے دن کا اقرار کہ ہم گناہوں سے بچتے رہیں گے بڑی بھاری بات ہے کیونکہ یا تو آج سے تمہارے لئے رحمت کی بنیاد پڑتی ہے اور یا عذاب کی۔اگر کوئی شخص محض خدا کیلئے ان ساری باتوں کو چھوڑتا ہے جو اس کی عادت میں ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور نارضامندی کا موجب ہیں تو وہ بڑی رحمت کا مستحق ہوتا ہے۔عادت کا سنوارنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے جیسے افیونی۔شرابی۔جھوٹ بولنے والے وغیرہ کو اپنی عادت کا چھوڑنا بہت ہی مشکل معلوم ہوتا ہے جب تک خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو یہ ہل کام نہیں ہے۔اسی طرح پر جب کوئی آدمی گناہ کرتا رہتا ہے اور ایک حصہ اس کی عمر کا اس گناہ میں گزر جاتا ہے تو جیسے ان نشہ بازوں کو جو افیونی۔چرسی۔بھنگی وغیرہ ہوتے ہیں اپنی عادت کے خلاف چھوڑ نا مشکل ہو جاتا ہے۔گہنگار کو بھی اپنی عادت سے باز آنا بہت ہی مشکل معلوم ہوتا ہے اور بدوں دکھ اُٹھائے وہ اس عادت کو چھوڑ نہیں سکتا لیکن اگر وہ دکھ اُٹھا کر بھی اس بد عادت کو چھوڑنے