فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 234
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 234 اسے نجات دوں گا اور اس کیلئے رزق کی ایسی راہ پیدا ہوگی اور ایسے طور سے اس کو رزق ملے گا کہ معلوم بھی نہیں ہوگا کہ کہاں سے رزق آتا ہے۔ایسا ہی دوسری جگہ فرمایا ہے هُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِيْنَ جیسے ماں شیر خوار بچہ کی پرورش کرتی ہے اس طرح پر اللہ تعالیٰ اس کا تکفل کرتا ہے۔پھر ایک جگہ فرمایافی السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ تمہارا رزق اور جو کچھ تم کو وعدہ دیا گیا ہے آسمان میں ہے۔پھر اس کو تاکید کے ساتھ ثابت کیا کہ فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقِّ در حقیقت خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنا اور اس سے ڈر کر گناہوں سے بچنا بھی ایک ایسی چیز ہے جو اس کو ساری تنگیوں سے نجات بخشتی ہے۔جو خدا تعالیٰ کا بھروسہ چھوڑتا ہے وہ در حقیقت اس کو مانتا ہی نہیں ہے۔گنا ہوں سے بچنے کی اصلی جڑ یہی ہے کہ جب گناہ چھوڑتا ہے تو خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر ہی چھوڑتا ہے۔۔۔۔جولوگ بیعت کرتے ہیں ان کو مناسب ہے کہ وہ سچی توبہ کریں اس کے بغیر فائدہ نہیں ہے۔کیونکہ اگر کوئی بازار سے شربت بنفشہ لے اور دراصل وہ نہ ہو تو اس سے کیا فائدہ ہوگا۔اسی طرح پر جو نرے سڑے ہوئے لفظ ہی ہیں وہ زبان تک ہی آتے ہیں اوپر نہیں جاتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔اسی صورت میں بیعت کرانے والے کو تو ثواب ہو جاتا ہے مگر کرنے والے کو نہیں ہوتا۔یہ بھی یا درکھو کہ بیعت کے معنی بیچ دینے کے ہیں اگر تم میں کوئی اپنا بیل بیچ دے تو وہ پھر اس پر کیا حق رکھ سکتا ہے جس نے لیا ہے وہ اسے جس طرح چاہے کام میں لائے۔اسی طرح پر تم نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں بیچ دیا ہے۔اب جس کی بیعت کی اس کی مرضی پر چلنا ضروری ہوگا۔اگر کچھ اپنی مرضی کے موافق کرو اور کچھ اس کی باتیں مانو تو یہ بیعت کوئی فائدہ نہ دے گی بلکہ نقصان ہو گا۔خدا تعالیٰ ملی جلی باتوں کو پسند نہیں کرتا وہ خلوص چاہتا ہے اس لئے اپنی طاقت کے موافق کوشش کرو کہ صالح بن جاؤ۔اپنی عورتوں کو بھی نصیحت کرو کہ وہ نمازیں پڑھیں۔معمولی ایام کے سوا جب کہ انہیں نماز معاف ہوتی ہے کبھی نماز چھوڑنی نہیں چاہئے۔اسی طرح پر اپنے ہمسایوں کو بھی سکھاؤ اور غافل نہ رہو۔یہ بھی چاہئے کہ اس بات کو کسی واقف کار سے معلوم کر لو کہ خدا تعالیٰ نے جو اس سلسلہ کو قائم کیا ہے اس کی کیا غرض ہے؟ لوگوں نے خدا تعالیٰ کے دین کو بدل دیا ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کو اصل حالت پر قائم کرے۔" الحکم نمبر 13 جلد 7 مؤرخہ 10 را پریل 1903 ء صفحہ 6)