فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 224

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 224 اطاعت والدین است۔لہذا بہتر است که این قدر اطاعت کنند که همراه شان روند و آن جا چو محسوس شود که اندیشه قتل یا حبس است - بلا توقف باز بیانند چرا که خود را در معرض ہلاک انداختن جائز نیست۔ہم چنین مخالفت والدین ہم جائز نیست - پس در این صورت ہر دو حکم قرآن شریف بجا آورده می شود۔" والسلام۔مرزا غلام احمد البدر نمبر 7 جلد 6 مؤرخہ 14 فروری 1907ء صفحہ 4) (۲۸۷) ہندوؤں سے ہمدردی ایک شخص کا سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ بہ سبب پرانے تعلقات کے ایک ہندو ہمارے شہر کا ہمارے معاملات شادی اور غمی میں شامل ہوتا ہے اور کوئی مر جائے تو جنازہ میں بھی ساتھ جاتا ہے۔کیا ہمارے واسطے بھی جائز ہے کہ ہم اس کے ساتھ ایسی شمولیت دکھائیں۔فرمایا کہ:۔ہندوؤں کے رسوم اور امور مخالف شریعت اسلام سے علیحدگی اور بیزاری رکھنے کے بعد دنیوی امور میں ہمدردی رکھنا اور ان کی امداد کرنا جائز ہے۔" البدر نمبر 23 جلد 6 مؤرخہ 6 جون 1907 ء صفحہ 8) (۲۸۸) طعام اہل کتب و اہل ہنود پر فیصلہ کن تقریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام امریکہ اور یورپ کی حیرت انگیز ایجادات کا ذکر ہورہا تھا۔اسی میں یہ بھی ذکر آ گیا کہ دودھ اور شور با وغیرہ جو کہ ٹینوں میں بند ہو کر ولایت سے آتا ہے بہت ہی نفیس اور ستھرا ہوتا ہے اور ایک خوبی ان میں یہ ہوتی ہے کہ ان کو بالکل ہاتھ سے نہیں چھوا جاتا۔دودھ تک بھی بذریعہ مشین کے دوہا جاتا ہے۔اس پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:۔چونکہ نصاری اس وقت ایسی قوم ہوگئی ہے جس نے دین کی حدود، اس کے حلال حرام کی کوئی پروا نہیں رکھی اور کثرت سے سور کا گوشت ان میں استعمال ہوتا ہے اور جو ذبح کرتے ہیں اس پر بھی خدا کا نام ہرگز نہیں لیتے بلکہ جھٹکے کی طرح جانوروں کے سر جیسا کہ سنا گیا ہے علیحدہ کر دئیے جاتے ہیں۔اس