فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 223

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 223 سلوک سے پیش آویں اور بہت نرمی کے ساتھ اپنے عقائد کی خوبی اور راستی ان کے ذہن نشین کریں اور اپنا نیک نمونہ ان کو دکھلا دیں۔ممکن ہے کہ وہ ایذا دہی کی خصلت سے باز آجاویں۔بہر حالت بے صبری نہیں کرنی چاہئے اور کچھ صبر اور استقامت سے کام لینا چاہئے اور اپنے دشمنوں کے حق میں ہدایت کی بھی دعا کرتے رہیں۔کیونکہ ہمیں خدا نے آنکھیں عطا کی ہیں اور وہ لوگ اندھے اور دیوانہ ہیں۔ممکن ہے کہ آنکھ کھلے تب حقیقت کو پہچان لیں۔" البدر نمبر 7 جلد 2 مؤرخہ 25 فروری 1906 ء صفحه 9) (۲۸۵) ہڑتال کے متعلق ذکر تھا کہ سیالکوٹ کے تجار نے بہ سبب محصول چنگی میں زیادتی کے دکانیں بند کر دی تھیں اور چند روز کا نقصان اٹھا کر پھر خود بخود کھول دیں۔فرمایا:۔اس طرح کا طریق گورنمنٹ کی مخالفت میں برتا ان کی بے وقوفی تھی جس سے ان کو خود ہی باز آنا پڑا محصول تو دراصل پبلک پر پڑتا ہے۔آسمانی اسباب کے سبب سے بھی جب کبھی قحط پڑ جاتا ہے تو تاجر لوگ نرخ بڑھا دیتے ہیں اس وقت کیوں دوکانیں بند نہیں کر دیتے۔" البدر نمبر 52 جلد 2 مؤرخہ 27 دسمبر 1906 ، صفحہ 3 و5 ) (۲۸۶) جان کے خوف میں والدین کی فرمانبرداری مدت سے ایک افغان ایک ایسے علاقہ کا رہنے والا جہاں اپنا عقیدہ و ایمان کے اظہار موجب قتل ہو سکتا ہے اس جگہ قادیان میں دیسی تعلیم کے حصول کے واسطے آیا ہوا ہے۔حال میں اس کے والدین نے اس کو اپنے وطن میں طلب کیا ہے۔اب اس کو ایک مشکل پیش آئی۔اگر وطن کو جائے تو خوف ہے کہ مبادا وہاں کے اس بات سے اطلاع پا کر کہ یہ شخص خونی مہدی اور جہاد کا منکر ہے قتل کے در پے ہوں اور اگر نہ جاوے تو والدین کی نافرمانی ہوتی ہے۔پس اس نے حضرت سے پوچھا کہ ایسی حالت میں کیا کروں۔حضرت نے جواب میں فرمایا:۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔چونکہ در قرآن شریف در آن امور که مخالف شریعت نه باشند حکم