فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 225
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 225 لئے شبہ پڑ سکتا ہے کہ بسکٹ اور دودھ وغیرہ جو ان کے کارخانوں وغیروں کے بنے ہوئے ہوں ان میں سور کی چربی اور سور کے دودھ کی آمیزش ہو۔اس لئے ہمارے نزدیک ولایتی بسکٹ اور اس قسم کے دودھ اور شور بے وغیرہ استعمال کرنے بالکل خلاف تقویٰ اور نا جائز ہیں۔جس حالت میں کہ سور کے پالنے اور کھانے کا عام رواج ان لوگوں میں ولایت میں ہے تو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ دوسری اشیاء خوردنی جو کہ یہ لوگ تیار کر کے ارسال کرتے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی حصہ اس کا نہ ہوتا ہو۔" اس پر ابوسعید صاحب المعروف عرب صاحب تاجر برنج رنگون نے ایک واقعہ حضرت اقدس کی خدمت میں یوں عرض کیا کہ رنگون میں بسکٹ اور ڈبل روٹی بنانے کا ایک کارخانہ انگریزوں کا تھا وہ ایک مسلمان تاجر نے قریب ڈیڑھ لاکھ روپے کے خرید لیا۔جب اس نے حساب و کتاب کی کتابوں کو پڑتال کر کے دیکھا تو معلوم ہوا کہ سور کی چربی بھی اس کا رخانہ میں خریدی جاتی رہی ہے۔دریافت پر کارخانہ والوں نے بتلایا کہ ہم اسے بسکٹ وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر یہ چیزیں لذیذ نہیں ہوتیں اور ولایت میں بھی یہ چربی ان چیزوں میں ڈالی جاتی ہے۔اس واقعہ کے سننے سے ناظرین کو معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا خیال کس قدر تقولی اور باریک بینی پر تھا۔لیکن چونکہ ہم میں سے بعض ایسے بھی تھے جن کو اکثر سفر کا اتفاق ہوا ہے اور بعض بھائی افریقہ وغیرہ دور دراز امصار و بلا د میں اب تک موجود ہیں جن کو اس قسم کے دودھ اور بسکٹ وغیرہ کی ضرورت پیش آسکتی ہے اس لئے ان کو بھی مدنظر رکھ کر دوبارہ اس مسئلہ کی نسبت دریافت کیا گیا۔اور نیز اہل ہنود کے کھانے کی نسبت عرض کیا گیا کہ یہ لوگ بھی اشیاء کو بہت غلیظ رکھتے ہیں اور ان کی کڑاہیوں کو اکثر کتے چاٹ جاتے ہیں۔اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ:۔" ہمارے نزدیک نصاری کا وہ طعام حلال ہے جس میں شبہ نہ ہو اور از روئے قرآن مجید کے وہ حرام نہ ہو۔ورنہ اس کے یہی معنی ہوں گے کہ بعض اشیاء کو حرام جان کر گھر میں تو نہ کھایا مگر باہر نصاری کے ہاتھ سے کھا لیا اور نصاری پر ہی کیا منحصر ہے اگر ایک مسلمان بھی مشکوک الحال ہو تو اس کا کھانا بھی نہیں کھا سکتے۔مثلاً ایک مسلمان دیوانہ ہے اور اسے حرام و حلال کی خبر نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس کے طعام یا تیار کردہ چیزوں پر کیا اعتبار ہو سکتا ہے۔اسی لئے ہم گھر میں ولایتی بسکٹ استعمال نہیں