فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 222

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 222 اور برتاؤ کرنا چاہئے کیونکہ برادری کے بھی حقوق ہیں البتہ جو تقی نہیں اور بدعات و شرک میں گرفتار ہیں اور ہمارے مخالف ہیں ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے تا ہم ان سے نیک سلوک کرنا ضرور چاہئے۔ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہر ایک سے نیکی کرو جو دنیا میں کسی سے نیکی نہیں کر سکتا وہ آخرت میں کیا اجر لے گا۔اس لئے سب کیلئے نیک اندیش ہونا چاہئے۔ہاں مذہبی امور میں اپنے آپ کو بچانا چاہئے۔جس طرح پر طبیب ہر مریض کی خواہ ہندو ہو یا عیسائی یا کوئی ہو سب کی تشخیص اور علاج کرتا ہے اسی طرح پر نیکی کرنے میں عام اصولوں کو مد نظر رکھنا چاہئے۔الحکم نمبر 29 جلد 6 مؤرخہ 17 راگست 1902ء صفحہ 9) (۲۸۴) مخالف رشتہ داروں سے تعلق ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط اور اس کا جواب) مجھ کو حضور سے بیعت ہوئے عرصہ تقریباً ڈیڑھ سال کا گزرا ہے۔اس عرصہ میں مخالفین نے اکثر تکالیف پہنچائی ہیں اور اب بھی پہنچا رہے ہیں۔کاروبار دنیوی میں بھی ہر طرح سے روک ڈال رہے ہیں۔غرض کہ ہر طرح سے نقصان پہنچانے میں کوشش بلیغ کرتے ہیں۔بلکہ خاص رشتہ دار بھی میرے دشمن ہو گئے ہیں۔مجھ کو وہاں پر رہنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔کسی صورت سے مجھ کو وہاں پر گزارہ کرنا نظر نہیں آتا۔بہر طور وہاں پر مجبور ہو گیا ہوں اور میری طبیعت بھی خود ان لوگوں سے بیزار ہے۔میں خودان میں رہنا نہیں چاہتا مگر مجبور پڑا ہوا ہوں۔اب میری بابت جیسا کچھ حضور انور مناسب سمجھیں حکم فرماویں۔اب مجھ کو کیا کرنا چاہئے۔جیسا حکم ہو عمل میں لاؤں۔دوسرا میرا بھائی احمد دین ہے اس کی بھی ایسی ہی حالت ہے۔وہ بھی وہاں پر رہنا نہیں چاہتا اور تیسرا امام الدین نامی کشمیری ہے۔اس کو وہاں پر ہماری جیسی تکلیف تو نہیں ہے۔مگر دعا کے واسطے وہ بھی عرض کرتا ہے۔کیونکہ مخالف زیادہ ہیں اور ہم صرف تین شخص احمدی ہیں۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔میں نے تمام خط پڑھ لیا ہے۔میرے نزدیک مناسب ہے کہ بے صبری نہ کریں بلکہ اپنے صبر اور استقامت اور نرمی اور اخلاق کے ساتھ دشمن کو شرمندہ کریں اور نیک