فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 221
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 221 گورنمنٹ یا دوسرے لوگوں کے حقوق تلف کئے جاویں میں اس سے سخت منع کرتا ہوں۔لیکن ایسے طور کہ بطور نذرانہ یا ڈالی اگر کسی کو دی جاوے جس سے کسی کے حقوق کے اتلاف مدنظر نہ ہو بلکہ اپنی حق تلفی اور شر سے بچنا مقصود ہو تو یہ میرے نزدیک منع نہیں اور میں اس کا نام رشوت نہیں رکھتا۔کسی کے ظلم سے بچنے کو شریعت منع نہیں کرتی بلکہ لا تُلْقُوْا بِأَيْدِيْكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ فِرمایا ہے۔" فرمایا:۔الحکم نمبر 29 جلد 6 مؤرخہ 17 اگست 1902 صفحه 9) (۲۸۱) رشوت و ہدیہ میں فرق "رشوت اور ہدیہ میں ہمیشہ تمیز چاہئے۔رشوت وہ مال ہے کہ جب کسی کی حق تلفی کے واسطے دیا الیاں جاوے۔ورنہ اگر کسی نے ہمارا ایک کام محنت سے کر دیا ہے اور حق تلفی بھی کسی کی نہیں ہوئی تو اس کو جو دیا جاوے گا وہ اس کی محنت کا معاوضہ ہے۔" البدر نمبر 10 جلد 2 مؤرخہ 27 / مارچ 1903 ءصفحہ 76) (۲۸۲) رشوت ستانی سوال:۔رشوت ستانی سے اگر کسی نے مال جمع کیا ہوا ہو اور پھر وہ اس سے توبہ کرلے تو اسے کیا کرنا چاہئے؟ حضرت اقدس :۔"ایسا مال جو رشوت ستانی سے لیا گیا ہے جب تو بہ کرے تو اس مال کو ان لوگوں کو جن سے لیا ہے واپس کرے اور اگر پتہ نہ لگے تو پھر اسے صدقہ و خیرات کر دے۔" الحکم نمبر 11 جلد 7 مؤرخہ 24 مارچ 1903ء صفحہ 6) (۲۸۳) حکام اور برادری سے تعلق سوال کیا کہ حکام اور برادری سے کیا سلوک کرنا چاہئے۔فرمایا:۔" ہماری تعلیم تو یہ ہے کہ سب سے نیک سلوک کرو۔حکام کی سچی اطاعت کرنی چاہئے کیونکہ وہ حفاظت کرتے ہیں۔جان اور مال ان کے ذریعہ امن میں ہے اور برادری کے ساتھ بھی نیک سلوک