فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 214
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 214 کھول دیتا ہے۔اگر عذر نکال نکال کر گناہ کئے جائیں جیسے مثلاً کہتے ہیں کہ سودی روپیہ لئے بغیر گزارہ نہیں تو پھر عذروں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی کتاب کے کسی حکم پر عمل نہ ہو۔سب راستبازوں کا تجربہ یہی ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ رحمت کا دروازہ نہ کھولے کچھ بھی نہیں بنتا۔افسوس یہ ہے کہ جیسا بھروسہ انسان مخلوق کے دروازوں پر رکھتا ہے اگر اپنے خالق کے دروازہ پر رکھے تو کبھی محتاج نہ ہو۔مگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی قدر نہیں کرتے۔عذر رکھ کر معصیت میں مبتلا ہونا یہ سفلی عذر ہے جو شیطان سے آتا ہے۔ورنہ خدا تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کرے تو سب کچھ ہوتا ہے۔میں نے بعض بیماریوں میں آزمایا ہے اور دیکھا ہے کہ محض دعا سے اس کا فضل ہوا اور مرض جاتا رہا ہے۔ابھی دو چار دن ہوئے ہیں کثرت پیشاب اور اسہال کی وجہ سے میں مضمحل ہو گیا تھا۔میں نے دعا کی تو الہام ہوا دُعَاءُ كَ مُسْتَجَابٌ۔اس کے بعد ہی دیکھا کہ وہ شکایت جاتی رہی۔خدا ایک ایسا نسخہ ہے جو سارے نسخوں سے بہتر ہے اور چھپانے کے قابل ہے۔مگر پھر دیکھتا ہوں کہ یہ بخل ہے اس لئے ظاہر کرنا پڑتا ہے۔اسلام اور غیر اسلام میں یہی فرق ہے کہ وہ اپنی قدرت کے کرشمے دکھاتا ہے۔جیسا آنحضرت علی ای السلم کے وقت ہوتا تھا۔اب بھی خدا تعالیٰ وہی کرشمے دکھاتا ہے اور تازہ بتازہ کرشمے دکھاتا ہے اور ہم پہچانتے ہیں کہ گویا وہی زمانہ اور وقت ہے اس سے بڑا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔وہ اپنے بندوں کو جلتی آگ میں بچا لیتا۔ابراہیم علیہ السلام کیلئے کہا يَا نَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلَامًا۔اور یہاں بھی ڈگلس کے سامنے جو کلارک کا مقدمہ تھا وہ اس آگ سے کم نہ تھا۔غرض مومن کو خدا تعالیٰ ایسی مشکلات میں نہیں ڈالتا۔جو پڑتا ہے وہ اپنی ہی کمزوری کی وجہ سے پڑتا ہے۔" سوال:۔بابوعطا الہی صاحب سٹیشن ماسٹر نے عرض کی کہ حضور ریلوے کے محکمہ میں ملازموں کی تنخواہ میں سے ماہوار کچھ حصہ وضع ہوتا ہے اور وہ گورنمنٹ کے پاس جمع رہتا ہے پھر اس پر کچھ بونس دیا جاتا ہے۔کیا وہ سود میں داخل ہے؟ حضرت اقدس : " بات اصل یہ ہے کہ سود کی تعریف یہ ہے کہ اپنے ذاتی فائدے کیلئے روپہ