فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 215
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 215 قرض دیا جاوے یہ تعریف جہاں صادق آتی ہے وہ سود ہے۔لیکن جب کہ محکمہ ریلوے کے ملازم خود وہ روپیہ سود کے لالچ سے نہیں دیتے بلکہ جبر وضع کیا جاتا ہے تو یہ سود کی تعریف میں داخل نہیں ہے۔اور خود جو کچھ وہ روپیہ زائد دیدیتے ہیں وہ داخل سود نہیں ہے۔غرض یہ خود دیکھ سکتے ہو کہ آیا یہ روپیہ سود لینے کیلئے تم خود دیتے ہو یا وہ خود وضع کرتے ہیں اور بلا طلب اپنے طور پر دیتے ہیں۔" (الحکم نمبر 11 جلد 6 مؤرخہ 24 / مارچ1903ء صفحہ 6,5) ایک شخص نے ایک لمباخط لکھا کہ سیونگ بنگ کا سود اور دیگر تجارتی کارخانوں کا سود جائز ہے یا ہیں۔کیونکہ اس کے ناجائز ہونے سے اسلام کے لوگوں کو تجارتی معاملات میں بڑا نقصان ہو رہا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔" یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے اور جب تک کہ اس کے سارے پہلوؤں پر غور نہ کی جائے اور ہر قسم کے حرج اور فوائد جو اس سے حاصل ہوتے ہیں وہ ہمارے سامنے پیش نہ کئے جاویں ہم اس کے متعلق اپنی رائے دینے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ یہ جائز ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہزاروں طریق روپیہ کمانے کے پیدا کئے ہیں۔مسلمان کو چاہئے کہ ان کو اختیار کرے اور اس سے پر ہیز رکھے۔ایمان صراط مستقیم سے وابستہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو اس طرح سے ٹال دینا گناہ ہے۔مثلاً اگر دنیا میں سور کی تجارت ہی سب سے زیادہ نفع مند ہو جاوے تو کیا مسلمان اس کی تجارت شروع کر دیں گے۔ہاں اگر ہم یہ دیکھیں کہ اس کو چھوڑنا اسلام کیلئے ہلاکت کا موجب ہوتا ہے تب ہم فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ کے نیچے لا کر اس کو جائز کہہ دیں گے مگر یہ کوئی ایسا امر نہیں۔اور یہ ایک خانگی امر اور خود غرضی کا مسئلہ ہے۔ہم فی الحال بڑے بڑے عظیم الشان امور دینی کی طرف متوجہ ہیں۔ہمیں تو لوگوں کے ایمان کا فکر پڑا ہوا ہے۔ایسے ادنیٰ امور کی طرف ہم توجہ نہیں کر سکتے۔اگر ہم بڑے عالیشان دینی مہمات کو چھوڑ کر ابھی سے ایسے ادنی کاموں میں لگ جائیں تو ہماری مثال اس بادشاہ کی ہوگی جو ایک مقام پر ایک محل بنانا چاہتا ہے مگر اس جگہ بڑے شیر اور درندے اور سانپ ہیں اور نیز مکھیاں اور چیونٹیاں ہیں۔پس اگر وہ پہلے درندوں اور سانپوں کی طرف توجہ نہ کرے