فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 210

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 210 جن میں مال کی ضرورت ہے۔مثلاً آج کل یہ معلوم ہوا ہے کہ جاپانی لوگ اسلام کی طرف توجہ رکھتے ہیں اس واسطے بہت ضروری ہے کہ اسلامی خوبیوں کی ایک جامع کتاب تالیف کی جائے۔جس میں سر سے لے کر پاؤں تک اسلام کا پورا نقشہ کھینچا جاوے کہ اسلام کیا ہے۔صرف بعض مضامین مثلاً تعدد ازدواج وغیرہ پر چھوٹے چھوٹے مضامین لکھنا ایسا ہے جیسا کہ کسی کو سارا بدن نہ دکھایا جائے اور صرف ایک انگلی دکھا دی جاوے۔یہ مفید نہیں ہوسکتا۔پوری طرح دکھانا چاہیئے کہ اسلام میں کیا کیا خوبیاں ہیں اور پھر ساتھ ہی دیگر مذاہب کا حال بھی لکھ دینا چاہئے۔وہ لوگ بالکل بے خبر ہیں کہ اسلام کیا شے ہے۔تمام اصول و فروع اور اخلاقی حالات کا ذکر کرنا چاہئیے اس کے واسطے ایک مستقل کتاب لو لکھنی چاہئے جس کو پڑھ کر وہ لوگ دوسری کتاب کے محتاج نہ رہیں۔آج کل اس کام میں روپیہ صرف کرنے کی اس قدرضرورت ہے کہ ہمارے نزدیک جو آدمی حج کے واسطے روپیہ جمع کرتا ہے اس کو بھی چاہئے کہ اپنا روپیہ اسی کام میں صرف کر دے کیونکہ یہ جہاد کا موقع ہے۔اب تلوار کا جہاد باقی نہیں رہا لیکن قلم کا جہاد باقی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح کی طیاری کفار تمہارے مقابلہ میں کرتے ہیں اسی طرح کی طیاری تم بھی ان کے مقابلہ میں کرو۔اب قوموں کے درمیان تلوار کا مذہبی جنگ باقی نہیں رہا لیکن قلم کا جنگ ہے۔پادری لوگ طرح طرح کے مکر وفریب کے ساتھ اسلام کے برخلاف کتابیں شائع کرتے ہیں اور غلط باتیں افترا پردازی سے لکھتے ہیں۔جب تک ان خبیث باتوں سے آنحضرت لیل اللہ کا پاک ہونا ثابت نہ کیا جائے اسلام کی اشاعت کس طرح ہو سکتی ہے۔پس ہم اس بات سے شرم نہیں کرتے۔کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔میرا مذہب جس پر خدا نے مجھے قائم کیا ہے اور جو قرآن شریف کا مفہوم ہے وہ یہ ہے کہ اپنے نفس، عیال ، اطفال، دوست عزیز کے واسطے اس سود کو مباح نہیں کر سکتے بلکہ یہ پلید ہے اور اس کا استعمال حرام ہے۔لیکن اس ضعف اسلام کے زمانہ میں جب کہ دین مالی امداد کا سخت محتاج ہے اسلام کی مدد ضرور کرنی چاہئے۔جیسا کہ ہم نے مثال کے طور پر بیان کیا ہے کہ جاپانیوں کے واسطے ایک کتاب لکھی جاوے اور کسی فصیح بلیغ جاپانی کو ایک ہزار روپیہ دے کر ترجمہ کرایا جائے اور پھر اس کا دس ہزار نسخہ چھاپ کر جاپان میں شائع کر دیا جاوے۔ایسے موقعہ پر سود کا