فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 209

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 209 کے متعلق کیا حکم ہے؟ بینک والے وہ رقم ضرور دیتے ہیں اور بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر روپیہ جمع کرنے والا سود سے فائدہ نہ اُٹھائے تو بینک والوں سے ایسا روپیہ مشنری عیسائی اشاعت دین عیسوی کے واسطے لے لیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔"ہمارا مذہب یہ ہے کہ سود کا روپیہ بالکل حرام ہے کہ کوئی شخص اسے اپنے نفس پر خرچ کرے اور کسی قسم کے بھی ذاتی مصارف میں خرچ کرے یا اپنے بال بچے کو دے یا کسی فقیر مسکین کو دے۔کسی ہمسایہ کو دے یا مسافر کو دے سب حرام ہے۔سود کے روپیہ کا لینا اور خرچ کرنا گناہ ہے لیکن ایک بات جس پر خدا تعالیٰ نے ہمارے دل کو قائم کر دیا ہے اور وہ صحیح ہے۔یہ ہے کہ یہ ایام اسلام کے واسطے بڑے مالی مشکلات کے ہیں۔اول تو مسلمان اکثر غریب ہیں پھر جو امیر ہیں وہ اپنے ذاتی مصارف میں اور مال وعیال کے فکر میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔سود کا روپیہ لے لیتے ہیں اور زکوۃ نہیں دیتے۔دونوں طرف سے گنہ گاری میں پڑے ہوئے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ غریب ہو یا امیر ہو کسی کو بھی دین کا اور اسلام کی اشاعت کا فکر نہیں۔جو زکوۃ دیتے ہیں وہ بھی رسمی طور پر دنیوی عزت کے موقع پر اپنا روپیہ خرچ کر ڈالتے ہیں۔اپنا جو حق نہ تھاوہ لیتے ہیں اور خدا کا جو حق تھا وہ بھی نہیں دیتے اور اس طرح اپنے اندر دو گناہ ایک ہی وقت میں جمع کرتے ہیں۔غرض اس قدر اسلامی مصیبت کے وقت میں اگر اس قسم کا رو پیدا اشاعت اسلام کے واسطے تالیف کتب میں صرف کیا جائے تو یہ جائز ہے۔سود کا روپیہ تصرف ذاتی کے واسطے نا جائز ہے۔لیکن خدا کے واسطے کوئی شے حرام نہیں۔خدا کے کام میں جو مال خرچ کیا جائے وہ حرام نہیں ہے۔اس کی مثال اس طرح سے ہے کہ گولی بارود کا چلانا کیسا ہی ناجائز اور گناہ ہو لیکن جو اسے ایک جانی دشمن پر مقابلہ کے واسطے نہیں چلاتا وہ قریب ہے کہ خود ہلاک ہو جائے۔کیا خدا نے نہیں فرمایا کہ تین دن کے بھوکے کے واسطے سوربھی حرام نہیں بلکہ حلال ہے۔پس سود کا مال اگر ہم خدا کیلئے لگا ئیں تو پھر کیونکر گناہ ہوسکتا ہے۔اس میں مخلوق کا حصہ نہیں لیکن اعلائے کلمہ اسلام میں اور اسلام کی جان بچانے کیلئے اس کا خرچ کرنا ہم اطمینان اور شلج قلب سے کہتے ہیں کہ یہ بھی فَلا اِنم عَلَيْهِ میں داخل ہے۔یہ ایک استثناء ہے۔اشاعت اسلام کے واسطے ہزاروں حاجتیں ایسی پڑتی ہیں