فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 204
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 204 گا۔خدا کا نام ستار بھی ہے ورنہ دنیا میں عام طور پر راستباز کم ہوتے ہیں مستور الحال بہت ہوتے ہیں۔یہ بھی قرآن میں لکھا ہے وَلَا تَجَسَّسُوا یعنی تجس مت کیا کر دور نہ اس طرح تم مشقت میں پڑو گے۔" البدر نمبر 10 جلد 2 مؤرخہ 27 / مارچ 1903 ءصفحہ 76) (۲۶۴) زمین کا رہن رہن کے متعلق سوال ہوا۔آپ نے فرمایا کہ:۔موجودہ تجاویز رہن جائز ہیں۔گزشتہ زمانہ میں یہ قانون تھا کہ اگر فصل ہوگئی تو حکام زمینداروں سے معاملہ وصول کر لیا کرتے تھے اگر نہ ہوتی تو معاف ہو جاتا اور اب خواہ فصل ہو یا نہ ہو حکام اپنا مطالبہ وصول کر ہی لیتے ہیں۔پس چونکہ حکام وقت اپنا مطالبہ کسی صورت میں نہیں چھوڑتے تو اسی طرح یہ رہن بھی جائز رہا کیونکہ کبھی فصل ہوتی اور کبھی نہیں ہوتی تو دونوں صورتوں میں مرتہن نفع و نقصان کا ذمہ دار ہے۔پس رہن عدل کی صورت میں جائز ہے۔آجکل گورنمنٹ کے معاملے زمینداروں۔ٹھیکہ کی صورت میں ہو گئے ہیں اور اس صورت میں زمینداروں کو کبھی فائدہ اور کبھی نقصان ہوتا ہے تو ایسی صورت عدل میں رہن بے شک جائز ہے۔جب دودھ والا جانور اور سواری کا گھوڑارہن با قبضہ ہو سکتا ہے اور اس کے دودھ اور سواری سے مرتہن فائدہ اُٹھا سکتا ہے تو پھر زمین کا رہن تو آپ ہی حاصل ہو گیا۔" ނ (الحکم نمبر 15 جلد 7 مؤرخہ 24 را پریل 1903 صفحه (11) (۲۶۵) رہن زیوروز کوۃ زیور زیور کے رہن کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا:۔زیور ہو کچھ ہو جب کہ انتفاع جائز ہے تو خواہ نخواہ تکلفات کیوں بناتے جاویں۔اگر کوئی شخص زیور کو استعمال کرنے سے اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے تو اس کی زکوۃ بھی اس کے ذمہ ہے۔زیور کی زکوۃ بھی فرض ہے چنانچہ کل ہی ہمارے گھر میں زیور کی زکوۃ ڈیڑھ سوروپیہ دیا ہے۔پس اگر زیور استعمال