فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 203

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 203 (۲۶۳) رهن و بیمه سوال :۔رہن کے متعلق کیا حکم ہے؟ جواب:۔" ہمارے نزدیک رہن جب کہ نفع و نقصان کا ذمہ وار ہو جاتا ہے اس سے فائدہ اُٹھانا منع نہیں ہے۔" سوال :۔بعض لوگ جو عمارتوں کے بیمے کسی بیمہ کی کمپنی سے آتشزدگی وغیرہ کے متعلق کراتے ہیں اس کی بابت حضور کیا فرماتے ہیں؟ حضرت اقدس نے اس سوال کا جواب دیتے وقت ایک اصل بیان کر دی کہ :۔"سود اور قمار سے الگ کر کے اقرارات کو شریعت نے صحیح سمجھا ہے۔پس ان معاملات میں دیکھ لو کہ سود یا قمار کی کوئی جز تو نہیں اگر صرف اقرارات ہوں ان کو شریعت نے جائز رکھا ہے کہ جن میں ذمہ داری ہوتی ہے۔" چونکہ اس قسم کے سوالوں کے متعلق ایک لمبا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اس لئے حضرت حجتہ اللہ نے فرمایا کہ:۔"لَا تَسْأَلُوْاعَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ بھی قرآن شریف میں آیا ہے بہت کھوج کھاج مناسب نہیں ہے ایک شخص دعوت کھانے جاوے اور پھر وہاں لمبی تحقیق شروع کر دے کہ فلاں چیز کہاں سے آئی ، اس نے کہاں سے لی۔ایسے استفسار منع ہیں۔" "" انشورنش اور بیمہ پر سوال کیا گیا۔فرمایا کہ:۔الحکم نمبر 11 جلد 7 مؤرخہ 24 / مارچ 1903 ، صفحہ 6 سود اور قمار بازی کو الگ کر کے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں کو شریعت نے صحیح قرار دیا ہے۔قمار بازی میں ذمہ داری نہیں ہوتی۔دنیا کے کاروبار میں ذمہ داری کی ضرورت ہے۔دوسرے ان تمام سوالوں میں اس امر کا خیال بھی رکھنا چاہیئے کہ قرآن شریف میں حکم ہے کہ بہت کھوج نکال نکال کر مسائل نہ پوچھنے چاہئیں مثلاً اب کوئی دعوت کھانے جاوے تو اب اسی خیال میں لگ جاوے کہ کسی وقت حرام کا پیشہ ان کے گھر آیا ہو گا۔پھر اس طرح تو آخر کار دعوتوں کا کھانا ہی بند ہو جاوے